حملوں کا مقصد کابل اور اسلام آباد میں فاصلے پیدا کرنا ہے: افغان قونصل جنرل

 

 

پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل ڈاکٹر محمد معین مرستیال نے کہا ہے کہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب بھی پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے مابین معاملات امن اور صلح کی جانب بڑھتے ہیں تو بعض قوتیں اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہیں جس کا بنیادی مقصد کابل اور اسلام آباد کے درمیان فاصلے پیدا کرنا ہے۔

بدھ کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل نے کہا کہ کابل میں تین دن پہلے یکے بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جن میں دس صحافی بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا جہاں دونوں ممالک نے امن کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے پر زور دیا۔

قونصل جنرل کے مطابق کابل دھماکوں کی ذمہ داری افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف قبول کی گئی اور شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومت کی طرف سے داعش کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت 20 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں حکومت کے خلاف سرگرم عمل ہیں جنہیں مختلف بیرونی ممالک کی مدد حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
ان کے بقول ‘افغانستان میں جاری جنگ ہماری اپنی نہیں بلکہ ہم پر مسلط کی گئی ہے جس نے افغان عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کو بھی کئی قسم کے مسائل سے دوچار کیا ہے۔’
افغان کونسلر جنرل نے خصوصی طورپر کابل دھماکوں میں صحافیوں کی ہلاکت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں کئی نامور افغان صحافی لقمہ اجل بنے۔ انھوں نے کہا کہ مرنے والے بیشتر وہ صحافی تھے جنہوں نے جنگ زدرہ علاقوں میں کئی سالوں تک اپنی محنت کے بل بوتے پر خود کو ایک اچھے مقام تک پہنچایا تھا لیکن شاید زندگی نے ان سے زیادہ وفا نہیں کی۔

ان کے مطابق صحافی کسی خاص گروہ یا گروپ کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ غیر جانب دار ہوتے ہیں جن کا کام حقائق کو عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ افغان سفارت کار نے مرنے والے صحافیوں کے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کی اور کہا کہ ان اخبارنوسیوں کی قربانی کو ہمیشہ کےلیے یاد رکھا جائے گا۔

اس موقعے پر پریس کانفرس میں موجود پشاور کے اخبار نویسوں کی طرف سے کابل دھماکوں میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے ایصال ثواب کےلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
خیال رہے کہ افعانستان میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران تشدد کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے اور کالعدم تنظیموں کی طرف سے کئی شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان دھماکوں میں دس صحافی بھی مارے گئے ہیں جن میں آٹھ صحافی ایک دھماکے میں جبکہ دو صحافی دو الگ الگ واقعات ہلاک کیے گئے۔

مرنے والوں میں بی بی سی پشتو کے نوجوان نامہ نگار احمد شاہ بھی شامل ہیں جنھیں نامعلوم مسلح افراد نے صوبہ خوست فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔یہ امر بھی اہم ہے کہ افغانستان میں پہلی مرتبہ ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔