فیس بک کی پالیسی انتخابی مہمات کے لیے مشکلات

 

 

سوشل میڈیا کی معروف کمپنی فیس بک کی جانب سے صارفین کی نجی معلومات کی حفاظت پر زیادہ توجہ دینے کی پالیسی سیاسی مہمات کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
کیمبرج اینالیٹیکا نامی کمپنی کی جانب سے 87 ملین صارفین کی نجی معلومات حاصل کر کے انھیں سیاسی مہم کے لیے استعمال کرنے کے تنازع کے بعد سے فیس بک نے اس حوالے سے نئے اقدامات کیے ہیں۔
ان اقدامات کے بعد کمپنیوں کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ ’مائیکرو ٹارگٹنگ‘ کر سکیں۔ یہ وہ ٹیکنیک ہے جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں استعمال کی تھی۔
سنٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ٹیکنولوجسٹ جوزف ہال کا کہنا ہے کہ مائیکرو ٹارگٹنگ انتخابی مہموں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس سے وہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کس صارف پر کتنے پیسے خرچ کرنے ہیں اور کس کس کو اپنے اشتہارات دکھانے ہیں۔‘

’ڈیٹا جمع کرنے پر کسی قسم کی پابندی کا انتخابی مہموں پر بہت اثر پڑے گا۔‘
مائیکرو ٹارگٹنگ کوئی نئی بات نہیں۔ مارکٹنگ کے ماہرین اس طریقے کو انٹرنیٹ کے دور سے پہلے بھی استعمال کرتے تھے۔ مگر سوشل میڈیا کی شکل میں عام لوگوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات موجود ہونے کی وجہ سے اس بات کو جانچنا آسان بنا دیا ہے کہ کس کی کتنی آمدنی ہے، سیاسی خیالات کیا ہیں، یا دیگر ترجیحات کیا ہیں۔

جوزف ہال کا کہنا تھا کہ اگر فیس بک نے صارفین کے ڈیٹا کو انتخابی مہمات میں استعمال پر روکا تو ’وہ انتہائی مخصوص انداز میں لوگوں کو ٹارگٹ نہیں کر سکیں گے۔ یہ کوئی بری بات نہیں مگر سیاسی مہم چلانے والے لوگوں کو یہ پسند نہیں آئے گا کیونکہ اس سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔‘

انتہائی مہم چلانے والے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فیس بک سے وٹر ڈیٹا نہیں ملتا ماسوائے کیمرج اینالیٹیکا کے واقعے کے، بلکہ اس ڈیٹا کو صارفین کے دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات سے ملا کر ٹاگٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔