کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری، دو ہزارہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا

 

 

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
دونوں افراد کو شہر کے مصروف ترین علاقے جمال الدین روڈ پر واقع ایک دکان پر حملہ کر کے مارا گیا۔
سٹی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد اپنی دکان میں بیٹھے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد موٹر سائیکل پر وہاں آئے اور ان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ دونوں دکاندار آپس میں چچا بھتیجا تھے۔

اس واقعہ کے خلاف ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے قندہاری بازار میں ٹائر جلاکر احتجاج بھی کیا۔
کوئٹہ شہر میں 30 گھنٹوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل طوغی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی عالم کے چھوٹے بھائی کو ایک دکان پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔
قائد آباد پولیس کے ایک اہلکار نے اس واقعہ کو بھی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا تھا۔
ان دونوں واقعات کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ تاہم اس سے قبل ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

رواں ماہ کے دوران شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر مجموعی طور پر ٹارگٹ کلنگ کے چار واقعات پیش آئے ہیں۔
ان میں سے تین واقعات میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا جن میں پانچ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔
رواں سال انسانی حقوق سے متعلق ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2001 سے 2017 تک 16 سال کے دوران ایسے حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 525 افراد ہلاک اور 7 سو زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

اگرچہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کے اقدامات کے باعث پہلے کے مقابلے میں ان واقعات میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔
اپریل کے مہینے میں دارالحکومت کوئٹہ میں مجموعی طور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اپریل کے مہینے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر بھی دو حملے ہوئے جن میں 6 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح سیکورٹی فورسز پر بھی چار خود کش حملے ہوئے جن میں بلوچستان کانسٹیبلری کے چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔