عامر خان ان دنوں کس مہم کو سر کرنے میں مگن ہیں؟

 

 

بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان کا نام اکثر سماجی کاموں سے منسلک کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ ان کی فلمیں، ان کے ٹی وی پروگرام اور ان کا براہ راست لوگوں کے ساتھ مل کر عام مسائل کو اٹھانا اور ان پر کام کرنا ہے۔

جب عامر خان ٹی وی شو ’ستیہ مے وجیتے‘ کی میزبانی کے لیے اترے تو ملک میں بہت سے بنیادی مسائل پر تخلیقی بحث شروع ہوئی۔ ’ستیہ مے و جیتے‘ کے چوتھے سیزن کی تیاریوں کے دوران عامر خان نے اپنے ساتھی ستیہ جیت بھٹکل کے ساتھ انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے خشک سالی کے شکار گاؤں میں کام کرنا شروع کیا۔

عامر خان نے ’ستیہ مے و جیتے‘ کے چوتھے سیزن کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم چوتھے سیزن کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ بہت غور کیا۔ ’ستیہ مے و جیتے‘ کی ہر قسط کے بعد ہمیں کئی تبدیلیاں نظر آئیں۔ کسی پروگرام سے زمینی سطح پر تبدیلی رونما ہو یہ بات ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا تھی۔ اور شاید اسی لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ میدان میں جا کر براہ راست کام کیا جائے۔ اور ہم نے پانی اور مہاراشٹر کا انتخاب کیا۔‘

عامر خان نے بتایا کہ ’ستیہ مے و جیتے‘ کی پوری ٹیم نے تین سال پہلے خشک سالی سے دوچار مہاراشٹر کے دیہاتوں میں ریسرچ کی اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ وہاں پانی کے مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ وہارے بازار اور رالے گن سدّی جیسے چند گاؤں ایسے ہیں جہاں بارش کی کمی کے باوجود پانی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے
٭

٭

اس لیے عامر خان نے ’ستیہ مے و جیتے واٹر کپ‘ مقابلہ کرایا۔ اس مقابلے کے تحت پورا گاؤں مون سون سے پہلے ایک ساتھ مل کر اپنی محنت کا عطیہ دیتا ہے۔ اپریل اور مئی کے مہینوں میں چھ ہفتوں تک پانی کے انتظام کا کام کرتا ہے جس سے مون سون کے پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔ مقابلے سے پہلے ہر گاؤں کے چند لوگوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور وہی گاؤں کے باقی لوگوں کی سربراہی کرتے ہیں۔

بہترین کام کرنے والے تین گاؤں کو ’ستیہ مے و جیتے واٹر کپ‘ اور نقد انعام دیا جاتا ہے۔
سنہ 2016 میں شروع ہونے والی اس مہم میں مہاراشٹر کے 116 گاؤں شامل تھے۔ عامر خان اسے ایک تجربہ کہتے ہیں۔ 116 گاؤں میں سے تقریباً 45 گاؤں کو پانی کی دشواری سے نجات ملی ہے۔ گذشتہ سال اس مقابلے میں 1000 گاؤں شامل تھے۔ سنہ 2018 میں مہاراشٹر کے تقریباً 4000 گاؤں کو اس مہم کے تحت ساتھ لانے کی امید کی جا رہی ہے۔

عامر خان کی خواہش ہے کہ شہری افراد بھی اس کام میں شامل ہوں اور اپنی ایک دن کی محنت سے تعاون کریں۔ یکم مئی کو یوم مزدور کے موقعے پر وہ شہر کے لوگوں سے ان گاؤں میں آنے کی اپیل کرنے والے ہیں کہ وہ ان گاؤں میں آ کر اپنی ایک دن کی محنت اس کار خیر میں لگائیں۔

یہ بھی پڑھیے
٭

٭

عامر خان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں میں اتحاد پیدا ہو رہا ہے تاہم وہ کہتے ہیں: ’ذات پات بڑا مسئلہ ہے اور پانی کے انتظام کا کام ایک دو لوگوں کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے پورے گاؤں کو ساتھ آنا ہوتا ہے۔ ہمارے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ لوگوں کو ایک ساتھ لانا ہے۔ ہم اپنی ٹربیت میں یہ سکھاتے ہیں کہ جب سارا گاؤں مل کر کام کرتا ہے تو ذات پات کے فاصلے مٹتے ہیں۔‘

گذشتہ سال کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عامر خان نے بتایا: ’وشنو بھونسلے نام کے ایک شخص نے گذشتہ سال ٹریننگ لی تھی۔ جب وہ اپنے گاؤں گئے تو گاؤں والوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ صرف دو معمر افراد کے ساتھ مل کر وہ پانی کے تحفظ پر کام کر رہے تھے۔ ہمیں اس بات کا پتہ چلا تو میں اور کرن ایک صبح وہاں پہنچے اور ہم پانچ لوگ کام کرنے لگے۔‘

عامر نے بتایا: ’میرا نام سن کر گاؤں کے 20-25 لوگ وہاں جمع ہوئے لیکن کوئی کام کرنے کے لیے آگے نہیں آیا۔ پھر میں نے اور کرن نے گاؤں کے مندر میں ایک جلسہ کیا اور اپنی بات رکھی۔ جب میں وہاں سے واپس آ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ گاؤں کے لوگ وشنو کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن میں غلط تھا۔ چند دنوں میں بہت سے نوجوان اس کام میں شامل ہوئے۔ ایک سال بعد وشنو سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں پانی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور انھوں نے دو ایکڑ زمین پر 10 لاکھ کی فصل اگائی ہے۔‘

عامر خان خوش ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتیں اس کام میں کسی نہ کسی طرح شامل ہو رہی ہیں اور کام کر رہی ہیں۔ انھیں مہاراشٹر کی ریاستی حکومت کا تعاون بھی حاصل ہے۔
فی الحال عامر خان کی ساری توجہ مہاراشٹر میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے پر مرکوز ہے۔ دوسری ریاستوں تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ پانی کی اہمیت کو سمجھنے والے عامر خان کے گھر میں پانی کے اصراف پر سختی ہے اور اس کا اطلاق ان کے چھ سالہ بیٹے آزاد پر بھی ہوتا ہے۔