روس کا کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی ماہرین کو دوما میں جانے کی اجازت دینے کا اعلان

 

 

روس نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم او پی ڈبلیو سی کے ماہرین کو شامی شہر دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر جانے کی اجازت دی جائے گی۔
دوسری جانب روس نے مغربی ممالک کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اس مقام پر شواہد میں ردوبدل کر رہا ہے جہاں پر مبینہ کیمیائی حملہ ہوا تھا۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حقائق پر پردہ ڈالنے اور بین الاقوامی ماہرین کو دوما میں حملے کے مقام پر جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

 

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم او پی ڈبلیو سی کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے کیمیائی حملے کے مقام پر رسائی دینے سے انکار کیا تھا۔
پیر کو روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کو بین الاقوامی انسپیکٹرز کو مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر جانے کی اجازت ہو گی۔
او پی ڈبلیو سی کی نو رکنی ٹیم پہلے سے ہی شامی دارالحکومت دمشق کے قریب اجازت ملنے کا انتظار کر رہی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے شام میں مشتبہ کیمیائی حملے کے مقام پر شواہد سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی تردید کی ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ’ میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ روس نے اس جگہ پر چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔‘
او پی ڈبلیو سی میں امریکی سفیر کینتھ وارڈ کا کہنا ہے کہ’ ہمارے خیال میں روسیوں نے حملے کی جگہ کا دورہ کیا ہے۔
تاہم روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سربراہان مملکت کے بارے میں ناشائستگی کا اظہار نہیں کر سکتے لیکن جیسا کہ آپ نے فرانس، امریکہ اور برطانیہ کے سربراہوں کا ذکر کیا تو صاف صاف بات کروں گا کہ جن شواہد کا وہ ذکر کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا سے حاصل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا اور جو پیش آیا اس کو رچایا گیا تھا۔
اس کے ساتھ وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سوال اٹھایا ہے کہ ان ممالک نے او پی سی ڈبلیو کے انسپیکٹرز کے معائنے سے پہلے جوابی حملہ کر دیا۔
روسی وزیر خارجہ کے بقول روس اور مغرب اس وقت سرد جنگ کے زمانے سے زیادہ بدتر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ سات اپریل کو ہونے والے کیمیائی حملے کے وقت دوما باغیوں کا مضبوط گڑھ تھا تاہم اب روسی اور شامی سکیورٹی نے آپریشن کے بعد اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
شام میں امدادی کارکنوں اور طبی اہلکاروں کے مطابق سنیچر سات اپریل کو دوما میں ہونے والے کیمیائی حملے میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کارکنوں کا کہنا تھا کہ شامی فوج نے بم گرائے جو زہریلے کیمیائی مواد سے بھرے ہوئے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ حملہ اس نے نہیں کیا بلکہ ان کا اس طرح سے ڈراما کیا گیا ہے کہ الزام حکومت کے سر آئے۔
اس مبینہ حملے کے بعد گذشتہ سنیچر کو امریکہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مقامات پر برطانیہ اور فرانس کے اشتراک میں میزائل حملے کیے تھے۔