عرب لیگ کے رہنماؤں کا شام میں کیمیائی حملے پر عالمی تحقیق کا مطالبہ

 

 

سعودی عرب کے شہر دہران میں عرب لیگ کے رہنماؤں نے کانفرنس کے اختتام پر شام میں کیمیائی حملے کے استعمال پر عالمی سطح پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے اور ایران کی دوسرے ممالک میں مبینہ مداخلت کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ علاقائی حریف سعودی عرب اور ایران کئی دہایئوں سے خطے میں برتری قائم کرنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں اور اب اس کے لیے دوسرے ممالک جیسے شام اور یمن میں پراکسی جنگ میں مصروف ہیں۔
عرب لیگ کا یہ اجلاس امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر میزائل حملوں کے اگلے روز شروع ہوا ہے۔ یاد رہے کہ عرب لیگ نے شام کی رکنیت سات سال قبل منسوخ کر دی تھی۔

 

 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کانفرنس کے اختتام پر میڈیا کو دی گئی دستاویز شامل ممالک کے رہنماؤں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم اپنے شامی بھائیوں پر استعمال ہونے والے کیمیائی حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہو۔’

اس دستاویز کے مطابق شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل ڈھونڈنے پر زور دیا گیا۔
دستاویز میں ایران پر اضافی پابندیاں لگانے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور تہران کو پیغام دیا گیا کہ وہ شام اور یمن سے اپنے ‘جنگجو’ واپس بلائے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے ہفتے کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ہفتے کو کیے گئے حملوں کی حمایت کی تھی جو شامی حکومت کے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں کیے گئے تھے۔
شام کے حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
کانفرنس کے آغاز پر میزبان سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے اپنی افتتاحی تقریر میں ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
‘ہم ایران کی جانب سے عرب خطے میں کی جانے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی ان ممالک میں بےجا مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہیں۔’
مشرق وسطی کے اہم عرب ملک قطر نے اپنا کوئی اہم عہدے دار عرب لیگ کی کانفرنس میں نہیں بھیجا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا سعودی عرب اور اس کے تین حمایتی ممالک کے ساتھ دس ماہ سے جاری تنازع ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

گذشتہ سال جون میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارت اور بحرین نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور الزام عائد کیا تھا کہ قطر دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔
قطر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ اس کی سالمیت پر حملہ ہے۔
کانفرنس میں شامل 22 ممالک کے سربراہان یا سینیئر نمائندے بھیجے جبکہ قطر کی نمائندگی عرب لیگ میں ان کے مستقل مندوب سیف بن مقدم نے کی۔
اس بارے میں صحافیوں کے سوال پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل ال جبیر نے جواب دیا کہ عرب لیگ کے اجلاس میں قطر کا معاملہ زیر بحث نہیں آئے گا۔
‘یہ بہت چھوٹا سے معاملہ ہے اور ہمیں اس سے کہیں زیادہ اہم چیزوں پر بات کرنی ہے۔ قطر کا معاملہ بہت آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کی حمایت کرنا بند کریں، دہشت گردی کی مالی معاونت کرنا بند کریں، شدت پسندی کی حمایت ختم کریں اور دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں، یہ سب کر لیں اور ہم آپ کو دوبارہ خوش آمدید کہیں گے۔’

اگرچہ شاہ سلمان نے شام پر مغربی ممالک کے اتحاد کی جانب سے حملے کا ذکر نہیں کیا تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا ’ہم ایک بار پھر یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ مشرقی یروشلم فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے۔
اس کے علاوہ شاہ سلمان نے مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کی بحالی کے لیے 150 ملین ڈالر عطیے کا اعلان کیا۔
’سعودی عرب یروشلم میں اسلامی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے 150 ملین ڈالر کا اعلان کرتا ہے۔‘