کیمیائی حملے کے جواب میں شام پر حملے سے کیا حاصل ہو گا؟

 

 

امریکی اور شامی حکومتوں نے شامی شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کا جواب دے دیا ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اس حملے سے وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟
کسی بھی جنگ کا سب سے اہم عنصر حیرت زدہ کر دینے کا ہوتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادی حملے کی باتیں کر کے کب کا یہ عنصر ختم کر چکے ہیں۔
اس کی وجہ سے شامی فوج کو موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنی سارے جہاز اور دوسرے عسکری اثاثے لاذقیہ، طرطوس اور حمیمیم میں واقع روسی جنگی اڈوں میں منتقل کر دے۔ یہاں یہ روسی کے انتہائی اہل زمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایس 400 میزائلوں کی حفاظت میں رہیں گے۔

شامی فوج نے مغربی ملکوں کے میزائل آنے سے پہلے پہلے اپنے انفنٹری اڈے بھی خالی کر دیے ہیں اور جس حد تک ممکن ہو، فوجیوں کو ادھر ادھر منتشر کر دیا ہے۔
ظاہر ہے کہ اگر روسی اڈوں پر حملہ ہوا تو وہ ان کا دفاع کریں گے۔ اس لیے یہ تمام صورتِ حال دو سپر پاورز کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔
اس صورتِ حال میں مغربی ملکوں کو یہ سوال درپیش ہے کہ حملے سے کیا حاصل ہو گا؟
شامی فوج روسی پناہ میں ہے، اس لیے مغربی حملے صرف عمارتوں اور ہوائی اڈوں ہی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مغربی ملک اپنے بنکر بسٹر میزائلوں کی مدد سے شامی فوج کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تباہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سے وہ شامی انفراسٹرکچر متاثر ہو سکتا ہے جو اس نے 2015 سے اب تک بنا رکھا ہے۔
ایک اور حکمتِ عملی بھی اختیار کی جا سکتی ہے جو زیادہ خطرناک ہے۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ طویل مدت تک حملے کرتا رہے۔ دوسری طرف شامی جہاز روسی اڈوں پر پھنسے رہیں گے، جس سے وقتی طور پر شام کے اوپر ایک قسم کا ‘نو فلائی زون’ قائم کیا جا سکتا ہے۔

پچھلے سال امریکہ نے صدر اسد کی جانب سے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں شعیرات ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
اس وقت شامی فضائیہ نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ وہ ایک دن کے اندر حرکت میں آتی نظر آئے۔ امریکہ کوشش کرے گا کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ اس طرح یہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔
شامی عوام کو کوئی فوری فائدہ نہیں پہنچے گا جو اپنی حکومت، باغیوں اور اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہیں۔
صدر اسد پر بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا کہ وہ جلد اقتدار چھوڑنے پر آمادہ ہو جائیں۔
تو پھر روس کی موجودگی میں اس قدر خطرہ مول لینے کی کیا تک بنتی ہے؟
بذاتِ خود طاقت کا استعمال بےمعنی ہے۔ اسے سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے اور یہ حکمتِ عملی ایسی ہو جس کا شام کے عوام کو طویل مدت فائدہ ہو۔
ایک اور مقصد تو یہ ہو سکتا ہے کہ کسی بھی قسم کی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد سے ان ہتھیاروں پر پابندی ہے، جس پر بڑی حد تک عمل بھی ہوتا رہا ہے۔ 1993 میں طے پانے والا کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن تخفیفِ اسلحہ کے کامیاب ترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ شام نے بھی اس پر دستخط کیے تھے۔

تاہم اس کے باوجود شواہد موجود ہیں کہ شام باقاعدگی سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔
دوسری طرف مغرب کو یہ بھی احساس ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ان کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے، اور اس اہم خطے پر ایران، روس اور کسی حد تک ترکی اپنا تسلط جما رہے ہیں۔
اس لیے مغرب کو یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کیا مستقبل میں ان کے مفادات عملی طور پر جنگ میں حصہ لے کر پورے ہوں گے یا پھر اس کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہو گا۔