شام پر حملہ:ایسے اقدامات کے نتائج بھگتنے پڑیں گے‘

 

 

شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ شامی سرزمین پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے میزائل حملے ’بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں‘۔
ادھر روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ ‘یہ ممکن نہیں کہ اس قسم کے اقدامات پر ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے‘۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ’جب دہشت گرد ناکام ہوئے تو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مداخلت کر دی اور شام پر جارحیت پر کمربستہ ہو گئے۔‘
یہ بھی پڑھیے

 

 

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’شام کے خلاف یہ جارحیت ناکام ہو جائے گی۔‘
خبر رساں ادارے کے مطابق میزائل حملوں میں دمشق کے شمال مشرق میں ایک تحقیقی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دارالحکومت کے اردگرد واقع دیگر عسکری تنصیبات بھی نشانہ بنی ہیں۔
صنعا نیوز کا کہنا ہے کہ حمص میں عسکری ڈپوز کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
شام کے اتحادی روس کے امریکہ میں سفیر اناطولی انوتوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے ملک کے بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔
روسی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر جاری کردہ بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’ ہماری تنبیہ کو پھر سے نہیں سنا گیا ہے۔ ایک پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر ہم خطرے سے دوچار ہیں۔‘

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم نے خبر دار کیا تھا کہ ایسے اقدامات نتائج کے بغیر نہیں جانے دیے جائیں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن، لندن اور پیرس کی ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’روسی صدر کی بے عزتی کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ امریکہ جس کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، اسے کوئی اخلاقی حق نہیں کہ وہ دوسرے ممالک پر الزام لگائے۔‘
یاد رہے کہ اسی ہفتے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے کہا تھا کہ ایک مرتبہ پھر ‘سرد جنگ کا آغاز’ ہو گیا ہے۔ انتونیو گرتیرس نے شام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا۔