امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ

 

 

امریکہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی سائٹوں پر برطانیہ اور فرانس کے اشتراک میں میزائل حملے کر دیے ہیں۔
امریکہ نے بظاہر یہ اقدام شام کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اٹھایا ہے۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق شامی دارالحکومت دمشق کے اردگرد شدید دھماکوں کی گونج سنی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ شام نے کیمیائی حملوں کے استعمال سے انکار کرتا رہا ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فوجی کارروائی ’جھوٹ‘ پر مبنی ہوگی۔

 

 

اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔‘
انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ ‘یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔’
ایک امریکی اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شام میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ٹوماہاک کروز میزائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ دارالحکومت دمشق میں ‘کم از کم چھ زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔’
شام کے سرکاری ٹی وی نے بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام کو سرگرم عمل کر دیا گيا ہے۔
گذشتہ روز روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا۔ اس سے قبل روس نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نے شام پر حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے استعمال کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا یہ کارروائی شام میں ‘حکومت تبدیل’ کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چار ٹورنیڈو جیٹ طیاروں سے کیے جانے والے برطانوی حملے میں حمص شہر کے پاس ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گيا ہے۔ اس فوجی ٹھکانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کیمیائی ہتھیار بنانے کے سامان رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا تاہم اس کی حمایت کرے گا۔
انھوں نے کہا ‘میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔’
یاد رہے کہ فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے دو روز قبل کہا تھا کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔