نہتے فلسطینی کو گولی مارنے کی ویڈیو پر ہنگامہ

اسرائیل کے فوجی حکام فوجی بندوق پر لگی دور بین سے لی گئی ایک ایسی ویڈیو کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جس میں ایک نہتے فلسطینی کو ہلاک کرنے کے بعد اسرائیل فوجی خوشی منا رہے ہیں۔

یہ ویڈیو جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ دیکھی جا چکی ہے اسے اسرائیل کے بعض ٹی وی چینلوں پر بھی نشر کیا گیا جس پر اسرائیلی سیاست دانوں نے برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بظاہر اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر چند ماہ قبل پیش آیا تھا۔ لیکن یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں بسنے والے سات لاکھ سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کے زیرِ قبضہ اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کا حق مانگنے کے لیے غزہ کی سرحد پر مظاہرے کر رہے ہیں۔

اسرائیل کو نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسانے اور موجودہ مظاہروں میں دو درجن سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک اور ڈیڑھ ہزار کے قریب فلسطینیوں کو زخمی کرنے پر عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ان کے فوجی صرف ان ہی لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو یا تو غزہ اور اسرائیل کی سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کو جو اسلح اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش میں تھے۔

مذکورہ ویڈیو میں تین افراد کو سرحدپر لگی باڑ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی ان تین افراد جو ساکن کھڑے تھے اور بظاہر نہتے تھے ان میں سے ایک زمین پر گر جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی عبرانی زبان میں کوئی پرجوش نعرہ لگاتا ہے اور گالی بھی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا ویڈیو ہے۔

اس کے بعد ایک ہجوم دوڑتا ہوا زمین پر گرے شخص کی طرف آتا ہے۔ یہ ویڈیو سب سے پہلے اسرائیل کے چینل ٹین پر نشر ہونے کے بعد نیٹ پر بہت دیکھی گئی۔

اس ویڈیو کی عرب فلسطینیوں کے علاوہ اسرائیل سیاست دانوں کی طرف سے بھی مذمت کی گئی ہے۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم بیت سلم نے کہا ہے کہ انھیں فوجی کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔

ایک ٹویٹ میں تنظیم کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیلی سیاست دانوں اور رہنماوں کی طرف سے اس کی مذمت صرف زبانی کلامی ہے اور فوج کی طرف سے کرائی جانے والی تحقیقات صرف لیپا پوتی کے مترادف ہو گی۔

ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ وہی لوگوں ہیں جو فوجیوں کو دیے جانے والے غیر قانونی احکامات کی حمایت کرتے ہیں کہ جو بھی سرحد کے قریب آئے چاہے ان سے کوئی خطرہ نہ بھی تب بھی انھیں ہلاک کر دیا جائے۔