فیس بک کی روس کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ ہے‘

 

 

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے امریکی سینیٹروں کو بتایا ہے کہ ان کی کمپنی روسی آپریٹرز کے ساتھ مسلسل حالتِ جنگ میں ہے جو ان کے نیٹ ورک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ہتھیاروں کی دوڑ ہے۔ وہ بہتر ہوتے جارہے ہیں۔‘
مارک زکربرگ کیمبرج اینالیٹکا سکینڈل کے حوالے سے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
حالیہ ہفتوں میں اس انکشاف کے بعد کہ مارکیٹنگ کمپنی کیمبرج اینالیٹکا نے آٹھ کروڑ سے زائد افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں زکربرگ کئی امریکی سینیٹ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں!

 

 

 

انھوں نے انکشاف کیا کہ سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کرنے والے خصوصی قونصل رابرٹ میولر نے فیس بک کے عملے سے پوچھ گچھ کی تھی۔
زکربرگ کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں میں شامل نہیں تھے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘خصوصی قونصل کے ساتھ ہمارا کام رازدارانہ ہے اور میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اوپن سیشن میں کوئی بھی بات نہیں کر سکتا جو رازدارانہ ہو۔’
فروری میں رابرٹ میولر کے دفتر نے 13 روسیوں اور تین روسی کمپنیوں پر سنہ 2016 کے انتخاب میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔
ان میں انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی بھی شامل تھی جسے بعض اوقات ‘رشیئن ٹرول فارم’ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ فرد جرم عائد کرتے ہوئے اس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس کا ‘سٹریٹیجک مقصد امریکی سیاسی نظام میں ناچاقی پیدا کرنا تھا۔’

مارک زکر برگ کا کہنا ہے کہ اب ان کی کمپنی جعلی اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے نئی ٹولز بنا رہی ہے۔
ٓانھوں نے کہا کہ ‘روس میں ایسے لوگ ہیں جن کا کام ہمارے نظام کو اور دیگر انٹرنیٹ نظام اور دوسرے نظاموں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ہمیں اس میں بہتری کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔’
فیس بک کے بانی نے سینیٹروں کے ان سوالوں کا جواب دینے سے اجتناب برتا کہ سوشل نیٹ ورک اس کو مزید کیسے ریگولیٹ کرے گا۔
جب ان پر زور دیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ریگولیشن کا خیرمقدم کریں گے اگر یہ ‘صحیح ریگولیشن’ ہوئی تاہم انھوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے اجتناب کیا۔