آنکھ مارنا جائز نہیں اور فلم میں یہ توہین مذہب ہے

 

پریا وریئر

انڈیا کی عدالت عظمیٰ میں ملیالم فلم ‘اورو آدار لو’ کے خلاف ایک بار پھر سے شکایت درج کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ریلیز سے قبل اس میں سے ‘منیکیا مالاریا پووی’ نامی گیت ہٹا دیا جائے۔
اس گیت کے دوران آنکھ مارنے والے سین پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے اور یہ ‘توہین مذہب’ کے مترادف ہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق حیدرآباد کے دو افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور کہا ہے کہ گیت کے بول کے ساتھ قابل اعتراض مناظر فلمائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ گیت پیغمبر اسلام اور ان کی زوجہ حضرت خدیجہ کی مدح میں لکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اس فلم اور اس کی اداکارہ پریا وریئر اور ہدایتکار عمر لولو کے خلاف ایف آئي آر درج کی گئی تھی لیکن ان کی جانب سے عرضی داخل کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر فیصلہ موخر کر دیا تھا۔

یہ فلم عید کے موقعے پر جون میں ریلیز ہونے والی ہے۔
‏اخبار کے مطابق عرضی گزار نے کہا: ’30 سیکنڈ کے کلپ میں ایک سکول کی طالبہ کو ایک سکول کے لڑکے کے ساتھ مسکراتے اور آنکھ مارتے دکھایا ہے۔۔ آنکھ مارنا ہی اسلام میں جائز نہیں ہے اور جب یہ عمل ایک مقدس گیت پر ثبت کیا جائے تو یہ عمل توہین مذہب کے زمرے میں آ جاتا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس گیت کی منظر کشی اسلام کی تصویر خراب کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ اور یہ گیت مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح اور مشتعل کرنے کی کوشش ہے۔’