کالا ہرن اتنا اہم کیوں ہے؟

 

 

سلمان خان اور کالے ہرن کا نام جب ایک ساتھ آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اداکار مشکل میں ہیں۔
انڈین اداکار سلمان خان پر راجستھان کے شہر جودھ پور میں دو چنکاروں (بلیک بک) کا شکار کرنے کا الزام ہے۔ انھیں کالا ہرن بھی کہا جاتا ہے۔
یہ واقعہ 26 ستمبر 1998 کا ہے۔ اس کے دو دن بعد 28 ستمبر کو سلمان پر گھوڑا فارم میں ایک اور بلیک بک کے شکار کا الزام لگا۔
اسی سال دو اکتوبر کو بشنوئی فرقے نے سلمان خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور دس دن بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ضمانت ملی۔ اور تب سے یہ معاملہ چلا آرہا ہے۔ جمعرت کو انھیں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

لیکن یہ معاملہ کیا اس لیے گرما گیا کہ اس میں ملک کا بڑا اداکار شامل ہے یا پھر کالا ہرن اتنا اہم ہے؟
کالے ہرن یا بلیک بک کو انڈین ایٹیلوپ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر انڈیا، پاکستان اور نیپال میں پایا جاتا ہے۔
کچھ علاقوں میں اس کی تھوڑی بہت آبادی ہے جبکہ محفوظ علاقوں میں ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ان کے رہنے کے علاقوں میں لگاتار کمی آرہی ہے، لیکن پھر بھی ان کے معاملے میں کچھ توازن قائم ہے۔ کالے ہرن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ وقت اور حالات کے مطابق خود کو بدلنا سیکھ گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بڑھتی ہوئی انسانی آبادی، پالتو جانوروں کی تعداد بڑھنے اور معاشی ترقی کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اُدے پور میں چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ راہل بھٹناگر نے بی بی سی کو بتایا کہ کالا ہرن شیڈیول ون میں آنے والا جانور ہے اور اس کے شکار پر مکمل پابندی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ ہرن عام طور پر راجستھان کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا کافی شکار ہوا کرتا تھا اور اس وجہ سے اسے بچانے کے لیے کڑے قانون کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ‘
نر کالے ہرن کا وزن عام طور پر 34-45 کلوگرام ہوتا ہے اور کندھے تک اس کی انچائی 74-88 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ مادہ کالے ہرن کی بات کریں تو اس کا وزن 31-39 کلوگرام ہوتا ہے اور انچائی نر سے ذرا کم ہوتی ہے۔

مادہ بلیک بک بھی نر کی طرح سفید رنگ لیے ہوتی ہے۔ دونوں کی آنکھوں کے چاروں طرف، منہ، پیٹ کے حصے اور پیروں کے درمیان والے حصوں کا سفید رنگ ہوتا ہے۔ دونوں کی شناخت میں سب سے بڑا عنصر سینگ کا ہوتا ہے۔ نر کے لمبے سینگ ہوتے ہیں جبکہ مادہ میں ایسا نہیں ہوتا۔

خاص بات یہ ہے کہ نر کالا ہرن رنگ بھی بدلتا ہے۔ مون سون کے آخر تک نر ہرنوں کا رنگ خاصا کالا دکھتا ہے، لیکن سردیوں میں یہ رنگ ہلکا پڑنے لگتا ہے اور اپریل کی شروعات تک ایک بار پھر بھورا ہو جاتا ہے۔

جنوبی انڈیا میں ان کی ایک آبادی ایسی بھی ہے جو کبھی کالی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نر، مادہ اور بچوں کے مقابلے میں زیادہ گاڑھے رنگ کے ہوتے ہیں۔
کالے ہرن عام طور پر گھاس چرتے ہیں، لیکن تھوڑی بہت ہریالی والے ریگستانی علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
وائلڈ لائف ایکسپرٹ عارفہ تحسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اُدیہ پور سے ہیں اور برٹش انڈیا دور میں کالے ہرنوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہوتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ ’کالے ہرن کے ساتھ دقت یہ ہے کہ ان کے علاقے سمٹ رہے ہیں کیونکہ یہ گھنے جنگلوں کا جانور نہیں ہے۔ یہ میدانی علاقوں کا جانور ہے اور انسانی آبادی بڑھنے کی وجہ سے ہم ان کے علاقوں پر فبضہ کرتے جا رہے ہیں۔‘

ایسا قیاس ہے کہ قریب دو سو سال پہلے ان کی آبادی 40 لاکھ تھی، لیکن سنہ 1947 میں 80 ہزار رہ گئی۔ 1970 کی دہائی میں ان کی آبادی کم ہو کر 22-24 ہزار پہنچ گئی جبکہ سنہ 2000 تک یہ 50 ہزار ہوگئی تھی۔ انڈیا میں کالے ہرن عام طور پر راجستھان، پنجاب، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور گجرات میں پائے جاتے ہیں۔ انڈیا سے باہر کی بات کریں تو یہ نیپال میں یہ قریب دو سو، ارجنٹینا میں 8600 اور امریکہ میں 35 ہزار ہیں۔

ان کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا تاہم کچھ علاقوں میں ان کی تعداد کافی زیادہ بھی ہے۔
اس وجہ سے اس جانور نے کھیتی باڑی والی زمین کے بیچ بسنے اور رہنے کی ہنر سیکھ لیا اور کچھ علاقوں میں یہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے بھی ثابت ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ نیل گائے جتنے خطرناک نہیں ہوتے ہیں۔

انڈین تہذیب بھی کالے ہرن کا خاص مقام ہے۔ قیاس ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب میں یہ خوراک کا ذریعہ رہا ہے اور دھولا ویزا اور مہر گڑھ جیسی جگہوں پر بھی اس کی ہڈیوں کی باقیات ملی ہیں۔
16 وہں سے 19 صدی کے درمیان قائم رہنے والی مغل سلطنت میں بلیک بک کی کئی چھوٹی پیٹنگز (منی ایچرز) انڈیا اور نیپال میں بلیک بک کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا اور نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ بشنوئی فرقہ انھیں تقریباً پوجتا ہے۔ آندھرا پردیش نے انھیں ’ریاستی جانور‘ کا درجہ دیا ہے۔

سنسکرت میں ان ہرنوں کا ذکر کرشن ہرن کی شکل ملتا ہے۔ ہندوؤں کے قدیم گرنتھوں کے مطابق بلیک بک بھگوان کرشن کا رتھ کھینچتا نظر آتا ہے۔ راجستھان میں کرنی ماتا کو کالے ہرن کا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔