کوئٹہ میں فن و فنکار: گلی میں ڈرامہ، تہہ خانے میں ڈی جے

 

 

کوئٹہ کے شانتی نگر میں ایک پتلی گلی کے ایک سرے پر تقریباً دو درجن افراد تھیٹر کے چند نوجوان فنکاروں کی پیشکش کو دیکھنے میں پوری طرح سے مگن ہیں۔
یہ ایک لڑکی مینا کی کہانی ہے جس نے مقامی بارسوخ زمیندار سے شادی کرنے سے انکار کردیا اور بعد میں اس کے آدمیوں نے لڑکی کو اغوا کر لیا۔
نکڑ ناٹک والا یہ گروپ پاکستان کے کشیدہ صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے گرد و نواح میں گذشتہ چند سالوں سے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن اب ان کی پیشکش میں کمی آئی ہے۔
تھیٹر گروپ ‘سٹریٹ’ کے سربراہ جان محمد نے کہا: ‘بعض وجوہات کے سبب اب لوگ پہلے کی طرح ہمارا خیرمقدم نہیں کرتے ہیں۔‘
‘سب سے بڑا مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ پہلے ہم کسی تذبذب کے بغیر کھلی جگہ پر اپنے ڈرامے پیش کرتے تھے اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا لیکن اب ہمیں اپنے تحفظ کو پہلے دھیان میں رکھنا ہوتا ہے۔’
اب عوام کا شور بڑھنے لگا تھا کیونکہ ڈرامہ اپنے اختتام پر تھا اور ناظرین تالیاں بجا رہے تھے اور ایک لمحے کے لیے جان محمد کی آواز بالکل سنائی نہیں دے رہی تھی۔
جوں ہی ناظرین وہاں سے ہٹے مجھے اس ڈرامے کے فنکاروں سے ملنے کا موقع ملا۔ سحر جارج نامی لڑکی مینا کا اہم کردار ادا کر رہی تھی۔
ان کے تجربے کے بارے میں جب میں نے پوچھا تو انھوں نے کہا: ‘والدین کو اس کے لیے راضی کرنا بہت مشکل تھا لیکن بالآخر انھوں نے اجازت دے ہی دی۔
‘تاہم انھیں اب بھی اعتراض ہے۔ معاشرے میں بہت ساری پابندیاں ہیں۔ ہم کچی بستیوں میں سڑکوں پر اپنے ڈرامے پیش کرتے ہیں اور اب ہماری فیملی اس کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔’
گذشتہ دہائیوں میں بلوچستان میں تشدد کی لہریں دیکھی گئی ہیں جس میں کوئٹہ کے شیعہ ہزارا قبائلی کو زیادہ تر نقصان ہوا ہے۔
پہاڑوں کے اس پار شہر کے دوسرے سرے پر ماری آباد ہے جہاں زیادہ تر ہزارہ آباد ہیں۔
فاضل موسوی ایک ‘سکیچ کلب’ چلاتے ہیں۔ یہ ایک آرٹ اکیڈمی ہے جہاں وہ مستقبل کے فنکاروں اور مصوروں کی تربیت کرتے ہیں۔
فاضل ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘ہفتے میں چار دن میں انھیں ڈرائنگ سکھاتا ہوں اور جمعے کو اپنے طلبہ سے خطاب کرتا ہوں تاکہ وہ فن کا مطلب سمجھ سکیں۔’
ہر چند کہ حالیہ مہینوں میں ٹارگٹ کلنگ اور حملوں میں کمی آئی ہے تاہم ہزارہ اب بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ان کا وسط ایشائی خد وخال انھیں مقامی برادریوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی نسلی اور مسلکی شناخت انھیں کمزور اور حملے کا ممکنہ ہدف بناتی ہے۔

اس لیے اس برادری کے نوجوان شہر میں آزادی سے نہیں گھوم سکتے۔ انھیں بہت احتیاط برتنی پڑتی ہے۔
فاضل نے بچوں کے فن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘اپنے اظہار کے لیے فن بہت مضبوط وسیلہ ہے۔ اس لیے میں اپنے طلبہ سے ہوشیار رہنے اور چیزوں سے پرے دیکھنے اور غور کرنے کے لیے کہتا ہوں۔
‘میرے طلبہ کے فن پاروں میں درد و ستم کی داستان ہے جس سے وہ گزر رہے ہیں۔’
وہ یہ کام اپنی مدد آپ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔
فاضل کہتے ہیں: ‘نوجوان ہزارہ کو اپنے حواس میں رکھنے کی یہ میری ادنی سی کوشش ہے۔ بلوچستان میں قابل قدر آرٹ کے ادارے نہیں ہیں اور حکومت کی جانب سے بھی کوئی سرپرستی نہیں ہے۔’
حال ہی میں حکومت بلوچستان نے ثقافتی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا ہے اور اس کے لیے ایک بڑا کیمپس بنایا ہے۔ عمارت بہت متاثرکن ہے لیکن بالکل سنسان ہے۔
اس ادارے کے ڈائریکٹر اصغر بلوچ نے میرا استقبال کیا اور مجھے وہاں کی سیر کرائی۔ آڈیٹوریم بہت بڑا تھا لیکن انھوں نے بتایا کہ یہاں کسی ڈرامے کی پیشکش کو تقریباً ڈھائی سال ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا: ‘اصولی طور پر یہاں نمائش، پروگرام، موسیقی وغیرہ ہمیشہ منعقد ہونا چاہیے لیکن ہمارے پاس محدود وسائل ہیں۔ بلوچستان کے فنکار سرپرستی کی عدم موجودگی میں بہت مجبور ہیں۔’
لیکن یہ صرف وسائل کی بات نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران انتہاپسندی کا شکار ہونے والے سماج نے فنکاروں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
کوئٹہ کے خروٹ آباد ضلعے میں چند نوجوان ایک تہہ خانے میں موسیقی بجانے کے لیے یکجا ہوتے ہیں۔ یہ شہر کا خفیہ راک بینڈ ‘ملہار’ ہے۔
ملہار کے لیڈ سنگر یاسر منہاس نے بی بی سی کو بتایا: ہم اپنے آپ کو بہت محددو رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی یونیورسٹی میں اپنے پروگرام پیش کرتے ہیں لیکن شہر میں کہیں دوسری جگہ نہیں۔’
یاسر کے والدین کئی ہفتوں سے باہر ہیں اس لیے یاسر نے اپنے موسیقار دوستوں کے لیے اپنے گھر کا دروازہ کھول دیا ہے۔ والدین کی موجودگی میں یاسر کو اس کی اجازت نہیں ہوتی۔
انھوں نے بتایا: ‘یہاں لوگ موسیقی پسند نہیں کرتے، نہ ہی ہمارے والدین اور نہ ہی ہمارا معاشرہ۔ اسے غیر اسلامی تصور کیا جاتا ہے۔’
انھوں نے مزید کہا: ‘اور آپ کو معلوم ہے کہ بغیر تعریف کے فنکاروں کے لیے جینا اور پرفارم کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم ان لوگوں کو سلام کرتے ہیں جو اس دم گھٹنے والے ماحول میں اپنے جوش کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔’