ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے ملاقات کے خطرات سے واقف ہیں: سی آئی اے سربراہ

 

 

امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر خطرات کو سمجھتے ہیں۔
اتوار کو فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے مائک پومپیو نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ یہ تماشے کے لیے نہیں کر رہے، وہ وہاں مسلے کو حل کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ‘شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے پر کام جاری ہے، اور یہ مکمل ہو گیا تو دنیا کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ وقت اور جگہ کا انتخاب بعد میں ہو گا۔’

 

 

 

تاہم شمالی کوریا نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات اچھے نہ رہے تو یہ دونوں ممالک اس سے کہیں زیادہ خراب صورتحال میں ہوں گے جس میں ابھی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا کہ شمالی کوریا کو سربراہی ملاقات سے قبل ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان سے ملاقات کا فیصلہ اپنی انتظامیہ کے اہم عہدے داروں سے مشاورت کیے بغیر کیا ہے۔
سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپیو نے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ ’انتظامیہ نے شمالی کوریا سے نمٹنے کے چیلنج کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر اس لیے آ رہا ہے کیونکہ امریکی پابندیوں نے اسے معاشی طور پر مجبور کیا ہے۔‘
انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’اس سے قبل شمالی کوریا کبھی بھی ایسی پوزیشن میں نہیں تھا جہاں اس کی معیشت کو خطرہ ہوتا اور جہاں اس کی قیادت اتنے دباؤ میں تھی۔‘

دونوں صدور کی ملاقات کی خبر سب سے پہلے جنوبی کوریا کے حکام نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دی۔
انھوں نے صدر ٹرمپ کو شمالی کوریا کے رہنما کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ کِم ‘ایٹمی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے پرعزم ہیں۔’
جنوبی کوریا کے صدر مون جائے نے کہا کہ یہ خبر ‘معجزے کی طرح ہے۔’
انھوں نے کہا: ‘اگر صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کی ملاقات ہو تو کوریائی جزیرہ نما کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔’
اس سے پہلے امریکہ کہتا رہا ہے کہ شمالی کوریا سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اس کا موقف ہے کہ یہ پیش رفت ایک بڑی کامیابی ہے۔
جنوبی کوریا کے سلامتی کے مشیر چنگ ایوینگ نے وائٹ ہاؤس کے باہر کہا کہ ’میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ہماری ملاقات میں کیا ہوا اور انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔‘

’کِم نے وعدہ کیا کہ اب شمالی کوریا مزید کوئی میزائل نہیں بنائے گا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’صدر ٹرمپ نے اس بریفنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مئی کے مہینے تک کم جونگ اُن سے ملیں گے اور ایک مستقل معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
شمالی کوریا انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ اپنے جوہری عزائم کے باعث دہائیوں سے تنہا ہے۔
اب تک امریکہ کے کسی صدر شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے اس سے یہ ملاقات نہایت اہم ہو گی۔
تاہم بی بی سی کی نامہ نگار لورا بائکر نے کہا ہے کہ اب تک شمالی کوریا نے براہِ راست ایسا کچھ نہیں کہا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار تلف کر دے گا یا وہ ایسا کرنا چاہتا ہے۔
کم جونگ ان کو پروپیگینڈا میں کامیابی ملی جبکہ امریکی صدر بھی فاتح محسوس کر رہے ہوں گے جن کی پالیسیوں نے دونوں کو مذاکرات کی میز تک پہنچا دیا۔
اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا ان مذاکرات کے بدلے کیا چاہتا ہے۔