سینیٹ کی چیرمینی اور بدتمیز بجوکا

 

 

کیا آپ نے کوئی ایسا ڈرامہ پڑھا یا دیکھا جس میں ہیرو کی کامیابی کا راستہ ہموار کرتے کرتے ڈرامہ نگار اچانک آخری ایکٹ میں ولن کو ہیرو بننے کی اجازت دے دے اور پھر بھی ڈرامے کے سب کردار ہنسی خوشی رہنے لگیں۔

ایسا ڈرامہ تھیٹر، ٹی وی، ریڈیو یا سینما میں شاید نہ چلے مگر سیاست میں ضرور چل سکتا ہے۔ اسی لیے سیاست ناممکنات کو ممکن بنانے کا آرٹ کہا جاتا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے کے اس فن کو جس طرح سکہ بند پاکستانی لکھاریوں نے چمکایا، ولیم شکیسپئیر ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
کوئی ہے ایسی ڈرامائی تشکیل کہ ایک دن پہلے جو مسلم لیگ تھی اگلی صبح پوری کی پوری حکمران ریپبلیکن پارٹی بن گئی۔
اقلیت کا اکثریت کے چنگل سے آزاد ہونے کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان وجود میں آنے کا قصہ تو ہر کسی کو ازبر ہے۔ کبھی کسی نے یہ بھی سنا کہ کسی ملک کی چھپن فیصد اکثریت چوالیس فیصد اقلیت سے تنگ آ کے بھاگ گئی اور اپنا الگ ملک (بنگلہ دیش) بنا لیا۔

 

 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فائن آرٹ اتنا کمال ہوتا گیا کہ اب آریہ بھٹ سے آئن سٹائن تک جنم لینے والے ریاضی دانوں کے تمام مروجہ نظریات بھی فرسودہ ہو چکے ہیں۔ جینیٹک میھتس کی مدد سے مسلم لیگ کی کلوننگ در کلوننگ سب سے کامیاب رہی۔ اس تسلسل میں ق کا جنم کل کی ہی بات ہے۔ ق کنٹرولڈ درجہ حرارت میں تو تنومند اور زندہ رہی مگر جیسے ہی اسے قدرتی ہوا میں نکالنے کا تجربہ کیا گیا سکڑتی چلی گئی۔ جیسا کہ کنونشن لیگ کے ساتھ ہوا تھا۔ لیکن جونیجو لیگ کے کلون سے بنائی جانے والی ن لیگ نے حیرت انگیز طور پر جڑ پکڑ لی۔

جدید ریاضیانہ سائنس کی چمتکاری جمع، تفریق، ضرب، تقسیم کا تازہ کمال سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ انقلابِ ریاضی سب سے کمزور صوبے بلوچستان کی تجربہ گاہ میں برپا کیا گیا۔ یعنی پینسٹھ ارکان کی صوبائی اسمبلی کو جنوری میں تین وزرا کے استعفوں سے ضرب دے کر اکتالیس ارکان حاصل کیے گئے اور پھر ان اکتالیس میں سے ایک ایسا عدد وزیرِ اعلی بنایا گیا جو بذاتِ خود اپنے حلقے کے ستاون ہزار چھ سو چھیاسٹھ رجسٹرڈ ووٹوں میں سے صرف چھ سو بہتر ووٹ حاصل کر کے اسمبلی کا رکن بنا اور پھر اس عدد کو کنگ میکر کا تاج پہنا دیا گیا۔

اس کے بعد پینسٹھ رکنی اسمبلی کی بالٹی میں مدھانی چلا کر دس آزاد سینیٹرز مکھن کی طرح نکال کے انہیں وزیرِ اعلی عبدالقدوس بزنجو کے ڈلیوری بکس میں جما دیا گیا۔
بزنجو صاحب نے خان کلب کی تھرڈ ایمپائر الیون، اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجاتے بجاتے اپنی ہی نظریاتی اینٹیں بجا دینے والے آصف زرداری اور سپلائی شدہ اینٹیں مار کر باہم سر پھوڑنے والے ایم کیو ایم کے دھڑوں اور برف میں لگے آزاد بلوچستانی سینیٹرز کو بظاہر یک نظریاتی لڑی میں جزوی طور پر پرو کر چھومنتر کے ڈنڈے پر لٹکا دیا ہے۔

اس ریاضیانہ معجزے کے سبب آج کے دن اس ملک میں دو طاقتور سیاسی رہنما مدِ مقابل ہیں۔ ایک نواز شریف اور دوسرے عبدالقدوس بزنجو۔
سینیٹ کی تماشا گاہ میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کا مرکزی خیال وہی پرانا ہے یعنی ایک ہرے بھرے کھیت سے اپنا حصہ مانگنے والے فصل اجاڑ پرندوں کو دور رکھنے کے لیے جا بجا جو چوبی بجوکے کھیت میں کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک میں واقعی اگر جان پڑ جائے تو باقی بجوکوں کی مدد سے اس بدتمیز بجوکے سے کیسے نمٹا جائے۔

(جیسا کہ شروع میں کہا جا چکا ہے اب تک کوئی ایسا ڈرامہ نہیں لکھا گیا جس میں مصنف ولن کو آخر میں ہیرو بننے کی اجازت دے دے۔ اس انہونی کو روکنے کے لیے بھلے ولن کو آخری ایکٹ میں راستے سے ہی کیوں نہ ہٹانا پڑ جائے۔ آخری ایکٹ اس ایکٹ کے بعد ہے)۔