مونچھیں ہوں تو وہاب ریاض جیسی

 

 

کرکٹ میں بولر ہمیشہ وکٹ حاصل کرنے کے بعد کسی نہ کسی انداز سے اپنی کامیابی کا اظہار کرتے ہیں۔ کوئی زور سے آواز نکال کے، کوئی انگلی کھڑی کر کے، کوئی آؤٹ ہونے والے بیٹسمین کی طرف غصے سے دیکھ کے اور کوئی تو عمران طاہر کی طرح بھاگتے بھاگتے تماشائیوں کے پاس جا کے۔ ہر بولر کا جشن منانے کا اپنا ہی طریقہ ہے۔ پیش ہے پاکستان کے پانچ بولروں کے آؤٹ کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرنے کے طریقے۔

مونچھیں سہلاتے وہاب ریاض

پاکستان کے تیز بولر وہاب ریاض ایک نہایت جارحانہ بولر ہیں۔ شائقین ورلڈ کپ میں ان کا شین واٹسن کو کیا جانے والا سپیل شاید کبھی نہیں بھولیں گے جو تیز اور خوبصورت فاسٹ بولنگ کا امتزاج تھا۔
ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ برائن لارا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ کرکٹ کی تاریخ کا خوبصورت ترین سپیل تھا۔ وہ ایک کلین شیو وہاب ریاض تھے لیکن اب ان کا ایک نیا اوتار دیکھنے میں آیا ہے جس میں انھوں نے لمبی موچھیں اور داڑھی رکھی ہے۔

ہر وکٹ حاصل کرنے کے بعد وہ بیٹسمین کی طرف دیکھتے ہیں اور مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی کہیں مونچھ اوپر کی طرف نہیں تو نیچے کی طرف ہی سہی، اگر تاؤ نہیں دے سکتے تو کم از کم آؤٹ ہوتے بیٹسمین کے زخم ہرے کرنے کے لیے اس پر ہاتھ تو پھر سکتے ہیں نہ۔

شعیب اختر کی اڑان
شعیب اختر وہ پاکستانی بولر ہیں جنھوں نے کرکٹ میں سب سے پہلے 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی تھی اور ان کی تیز رفتار بولنگ کی وجہ سے ہی انھیں راولپنڈی ایکسپریس کہا جاتا ہے۔
شعیب تیز رفتار رن اپ کے ساتھ تیز رفتار گیند کرتے اور جیسے ہی وہ وکٹ حاصل کرتے دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر بھاگتے رہتے جیسے اڑ رہے ہوں۔ ان کا یہ انداز ان کے مداحوں کو بہت پسند تھا۔
آفریدی کا ایکس
شاہد آفریدی یوں تو تیز کھیلنے اور اونچے اونچے چھکے لگانے کی وجہ سے مشہور ہیں اور اسی وجہ سے انھیں ’بوم بوم آفریدی‘ کہا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ بطور ایک بہت کارآمد سپن کروانے والے بولر بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

پی ایس ایل سیزن تھری کے سنیچر کو ہونے والے میچ کو ہی لے لیجیے جس میں چار اوورز میں انھوں نے 18 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ وہ جب بھی کسی کھلاڑی کو آؤٹ کرتے ہیں تو دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو پھیلا کر انگلش زبان کا لفظ ایکس بناتے ہیں جو کہ ان کا ایک منفرد انداز ہے۔

وسیم اکرم کی انگلی
وسیم اکرم پاکستان کے سب سے کامیاب ترین بولر ہیں۔ انھوں نے اپنی ناقابلِ فراموش بولنگ سے ٹیسٹ میچوں میں 414 اور ایک روزہ میچوں میں 502 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کے سب سے کامیاب ترین بولر بنے۔
وہ جب بھی کسی کو آؤٹ کرتے تو زور سے ‘ہاؤ از دیٹ’ تو کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی انگلی کھڑی کر کے وکٹ کیپر کی طرف بھاگنا شروع کر دیتے۔ شائقین کو انگلی اٹھا کے بھاگنے والے چھ فٹ دو انچ کے دراز قد وسیم اکرم کا یہ انداز بہت بھاتا تھا۔

حسن علی کا ‘بم’
حسن علی نے جب آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں پانچ میچوں میں 13 وکٹیں لیں تو ہر طرح اس نوجوان پاکستانی بولر کے چرچے ہونے لگے۔
انھیں جنوبی افریقہ، سری لنکا، انگلینڈ اور فائنل میں انڈیا کے خلاف بہترین کارکردگی پر مین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
حسن علی کا وکٹ حاصل کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرنے کا طریقہ بھی ان کی بولنگ کی طرح منفرد ہے۔ نعرہ لگاتے ہوئے زمین کی طرف اپنے ہاتھ کو لے کر جاتے ہیں اور پھر زور سے اسے اوپر اٹھاتے ہیں جیسے کوئی شے کھینچ رہے ہیں۔

کئی ایک نے کہا کہ وہ ’جینیریٹر سٹارٹ‘ کرتے ہیں (پاکستان میں انتہائی درجے کی لوڈ شیڈنگ دیکھتے ہیں شاید یہ درست بھی لگتا تھا)۔ لیکن پاکستانی اخبار کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کا ایکشن دراصل ایک بم کا پھٹنا ہے جس میں وہ پہلے اسے پمپ کرتے ہیں اور پھر وہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔

آج کل کے پاکستان میں خوشی کے اظہار کے سمبل بھی شاید آس پاس سے ہی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ایکشن تو اچھا لگا مگر وضاحت نہیں۔