پی ایس ایل کیا کیا بیچے گی؟

آپ کرکٹ کا میچ دیکھ رہے ہیں، بولر نے دوڑنا شروع کیا، بیٹسمین نے بلے سے پچ کو کھٹکھٹایا، کمنٹری باکس میں ایک لمحے کی خاموشی ہوئی، جب گیند بلے سے ٹکرا چکی تو کمنٹیٹر کی آواز آئی۔ 

اس گیند کے محاسن پہ بحث ابھی باقی تھی کہ اچانک سکرین گلابی ہو گئی۔ چند کٹے ہوئے مالٹے نمودار ہوئے، ایک جوس کا ڈبہ گرا، سکرین پہ سپانسر کا نام جلی حروف میں جگمگایا، جب کرکٹ سے رجوع کیا، تب اگلی گیند پھینکی جا رہی تھی۔

 

پچھلے دنوں کرکٹ نیوزی لینڈ نے ٹرائی سیریز کے ایک میچ میں اوورز کے بیچ میں میوزک بجانے کا تجربہ کیا۔ سٹیڈیم بھرنے کے لیے یہ ایک اچھوتی حکمتِ عملی تھی جسے حسب توقع شائقین نے شدید ناپسند کیا۔ 

پی ایس ایل کے بارے میں مزید پڑھیے

 

تاثر یہ بھی آتا ہے کہ کرکٹ کی زیادتی نے شائقین کے دلوں میں کھیل کی کشش اتنی کم کر دی ہے کہ اب لوگوں کو کرکٹ تک کھینچ لانے کے لیے سٹیڈیمز کے اندر سوئمنگ پول بنائے جا رہے ہیں جہاں منگنیاں بھی ہونے لگی ہیں۔

 

ٹی وی پہ دیکھنے والے شائقین کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں کرکٹ نے جس طرح فٹبال کے مارکیٹ ماڈل کی پیروی شروع کی ہے، کرکٹ بہت تیزی سے ٹی وی سپورٹ بنتا جا رہا ہے۔ ریٹنگز بھی اسی مفروضے کی تائید کرتی ہیں۔

 

ٹی وی پہ کرکٹ صارف کو کوئی ٹکٹ تو ادا نہیں کرنا پڑتی مگر یہ پابندی ضرور ہوتی ہے کہ تین گھنٹے کے میچ میں کم از کم 45 منٹ تک ٹائروں کے خواص، شیمپو کے نفسیاتی اثرات، بسکٹ کی عائلی زندگی پہ اثرات اور فروٹ جوس کی رومانٹک خصوصیات سے لطف اندوز ہونا پڑتا ہے۔

 

مگر اس میں گلے کی گنجائش نہیں ہے۔ ٹی وی چینلز جس مارکیٹ کا حصہ ہیں وہاں اشتہارات ہی بقا کا ایندھن ہیں۔ مزید برآں سبسکرپشن جیسے آپشنز بھی موجود ہیں کہ کوئی اگر چاہے تو جوس کے ڈبوں اور نمکو کے نغموں کے بغیر بھی کرکٹ دیکھ سکے۔

 

لیکن آج تک کسی کرکٹ براڈ کاسٹر کو ایسا اچھوتا خیال نہیں سوجھا کہ جس سے عام ٹی وی صارف اور سبسکرپشن دونوں تک جوس کے ڈبے پہنچائے جا سکیں۔ پی سی بی نے اپنی ذاتی براڈ کاسٹ سے اس تجربے کا آغاز کیا اور پہلے سیزن سے یہ جوس کے ڈبے رواں دواں ہیں۔

 

اوورز کے درمیان جو مرضی بیچا جائے، کم از کم یہ تسلی تو رہتی ہے کہ ابھی کھیل رکا ہوا ہے۔ مگر اوورز کے اندر ہی کبھی سکرین پہ بجلیاں گرنے لگیں اور کبھی زلفیں لہرانے لگیں تو پھر کرکٹ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ پی ایس ایل نے یہ کرشمہ کر دکھایا ہے کہ آپ مسلسل چھ گیندیں بھی بغیر اشتہار کے نہیں دیکھ سکتے۔

 

امپائرز کے کپڑوں سے لے کر پلئیرز کے ہیلمٹس تک ہر چار مربع فٹ کے اندر ایک سپانسر کا نام نظر آتا ہے۔ جب بیٹسمین شاٹ کھیلنے کے لیے اپنا سٹانس اوپن کرتا ہے تو فریم میں کم ازکم چار سپانسرز نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ چلیں یہ بھی قابل قبول ہے کہ فرنچائزز کو زندہ رہنے کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑے گا لیکن ایسے بھی حالات نہیں کہ چھ گیندوں کے بیچ دو اشتہارات نہ پھینکے گئے تو پی ایس ایل کی بقا کا سوال اٹھ جائے گا۔

 

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پی سی بی بمشکل پی ایس ایل کو چلا رہا ہے۔ بیرون ملک ہونے کے اخراجات اور خالی سٹیڈیمز کے سبب ریونیو کا تنگ دروازہ صرف اشتہارات اور رائٹس کی کمائی ہی ہے لیکن اگر اس الجھن میں میچ کی روانی اور براڈکاسٹ کوالٹی پہ ہی سمجھوتہ کر لیا جائے گا تو بطور برانڈ پی ایس ایل کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں ہو گا۔

 

اس بات پہ یقین رکھیے کہ پی ایس ایل کی کرکٹ نے باقی لیگز سے الگ اپنی شناخت بنا لی ہے۔ پی ایس ایل کی کرکٹ کو سپانسرز کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے، اب مارکیٹ پی ایس ایل کی طرف آئے گی۔ بس تھوڑا صبر کر لیجیے۔