ووٹ، ووٹ ہونا چاہیے، اس کے ساتھ نوٹ نہیں ہونا چاہیے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ سینیٹ کے انتخابات سے ایک روز قبل صرف مخصوص نشستوں پر متفقہ امیدوار سامنے لانے میں کامیابی ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن میں جمعے کی صبح ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس متحدہ قومی موومنٹ کی سربراہی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا کہ پارٹی قیادت کا انتخاب الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا اور اس کے لیے ایم کیو ایم کے ضابطے میں طریقہ کار واضح ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے مزید سماعت سات مارچ تک ملتوی کر دی۔

الیکشن کمیشن میں معاملہ حل نہ ہونے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی گروپ میں دوبارہ رابطے بحال ہوئے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انھوں نے پانچ ناموں کو حتمی شکل دی ہے جس میں جنرل نشستوں پر بیرسٹر فروغ نسیم اور کامران ٹیسوری، ٹیکنو کریٹ پر عبدالقادر خانزادہ، خواتین کی نشست پر ڈاکٹر نگہت شکیل جبکہ اقلیتوں کی نشست پر سنجے پاروانی امیدوار ہوں گے اور وہ پرامید ہیں کہ پارٹی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لے گی۔

یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا امیدوار بنانے پر ایم کیو ایم پاکستان مزید دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

امیدواروں کے حتمی اعلان میں بھی ان کا نام شامل رہا جس پر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ جو مخصوص نشتسیں ہیں ان پر عبدالقادر خانزادہ اور ڈاکٹر نگہت مشترکہ امیدوار ہیں جبکہ جو عام نشستیں ہیں اس پر ان کے امیدوار فروغ نسیم ہیں جبکہ فاروق ستار کے امیدوار کامران ٹیسوری ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ ان کے ساتھ جو 35 رکنی رابطہ کمیٹی ہے اس نے دو تہائی کی اکثریت کے ساتھ کامران ٹیسوری کو نامزد کیا ہے ، اس میں ان کی ذات یا انا نہیں ہے اسی طرح فروغ نسیم کو بھی ان کی تین تہائی رابطہ کمیٹی کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ دیگر اختلافات بھی جلد ہی نمٹائے جائیں گے۔

اس سے قبل ڈاکٹر فاروق ستار نے اسلام آباد سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر مسلم لیگ ن میں حال ہی میں شمولیت اختیار کرنے والے مشاہد حسین کی حمایت کا اعلان کیا اور اس موقعے پر انھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی ووٹ ہوگا لیکن ووٹ، ووٹ ہونا چاہیے، اس کے ساتھ نوٹ نہیں ہونا چاہیے۔’

ڈاکٹر فاروق ستار کے موقف کی تائید سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن اسمبلی دیوان چند چاولہ نے بھی کی اور کہا کہ ووٹ کی خریداری کے لیے رابطے جاری ہیں۔

‘سندھ میں خفیہ رائے شماری کا اعلان ہوا ہے۔ اس سے ہارس ٹریڈنگ کے خطرات بڑھ چکے ہیں اور لوگ آگے پیچھے پھر رہے ہیں کہ کس طرح نمبر گیمز بڑھائی جائیں۔ جو مڈل مین ہیں وہ اپنی اپنی آفر دے رہے ہیں۔ کوئی کروڑ تو کوئی دو کروڑ کی آفر لیے چل رہا ہے اور اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔’

سندھ اسمبلی کو 12 سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہے، جن میں سات جنرل نشستیں، دو خواتین، دو علما اور ٹیکنو کریٹس اور ایک اقلیتی نشست پر انتخابات ہوں گے۔

سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ایم کیو ایم پاکستان ہے جو اس وقت دھڑے بندی کا شکار ہے۔ 

تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے موجودہ صورتحال کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہو گا اور اگر وہ بارہ نشستیں حاصل نہ بھی کر سکی تو دس کے قریب ضرور حاصل کر سکتی ہے۔

‘ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن کی شکایت سامنے آئی ہے اس سے قبل شیخ صلاح الدین بھی ایسی شکایت کر چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے اراکین اگر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو صورتحال واضح ہوجائے گی کیونکہ انھوں نے اپنی ضمیر کی آواز پر تو پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیا ہو گا یا ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسے تعلقات تو کبھی نہیں رہے یا ایم کیو ایم کے اراکین اس کو بہتر جماعت سمجھتے ہوں، ایسا بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو ووٹ ملے۔’

ان الزامات کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت وضاحت کرتی رہی ہے کہ ان کی جانب سے کسی کو بھی پیسوں کی پیشکش نہیں کی گئی تاہم حمایت کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔