دیپالپور: بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں پولیس نے ایک شخص کو کمسن بچوں کی پورنوگرافک فلمیں بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق منگل کو گرفتار کیے گئے شخص سے موبائل فون اور کمپیوٹر برآمد ہوئے جن میں سے سنہ 2009 میں بنائی گئی 30-40 بچوں کی فحش فلمیں برآمد کی گئی ہیں۔

ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور میں محروک کلاں ہجرہ شاہ مقیم کے رہائشی حافظ محمد یوسف کے خلاف منگل کے روز الیکٹرانک کرائم ایکٹ اور دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دیپالپور کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر نوشیروان علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پیشے کے لحاظ سے واپڈا میں لائن مین تھا اور اس نے علاقے میں الحافظ اسلامک سکول اینڈ اکیڈمی کے نام سے ایک سکول قائم کر رکھا تھا جس کی پرنسپل اس کی ہمشیرہ تھیں۔

پولیس کے مطابق وہ اسی سکول میں پڑھاتا تھا۔ نوشیروان علی کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم کمسن بچوں کو پورنوگرافک فلمیں دکھاتا تھا اور اس کہ بعد انھیں ویسا ہی فعل کرنے کا کہتا تھا اور اس کے دوران وہ ان کی ویڈیو بنا لیتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم ان ویڈیو فلموں کے ذریعے بلیک میل کرتا تھا تاہم اس بات کی تصدیق تاحال نہیں ہو پائی کہ آیا وہ خود بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے میں بھی شامل تھا یا نہیں۔ 

نوشیروان علی کے مطابق ملزم کے قبضے سے جو ویڈیو فلمیں برآمد ہوئی ہیں وہ سنہ 2009 میں بنائی گئیں تھیں۔ اس کے بعد کی ویڈیوز اس نے ضائع کر دی تھیں۔ جن بچوں کی فلمیں بنائیں گئیں ان کی عمریں آٹھ سے نو سال کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق ملزم کے سکول سے ہی تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ بچوں کی طرف سے کوئی شکایت لے کر سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی پولیس ان کی شناحت ظاہر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

ملزم کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا ملزم اکیلا تھا یا اس کے اور بھی ساتھی ہیں اور کیا وہ ویڈیوز کو بیچتا تھا یا کہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ بھی کرتا تھا۔