MosqueMeToo#: مقدس مقامات پر بھی جنسی ہراسانی‘

مختلف ممالک کی مسلمان خواتین ہیش ٹیگ MosqueMeToos #کے ذریعے دوران حج اور دیگر مذہبی مناسک کی ادائیگی کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے واقعات شیئر کر رہی ہیں۔ 

ٹویٹر پر اس کا آغاز مصری نژاد امریکی خاتون جرنلسٹ مونا ایلتھوے نے سنہ 2013 میں حج کے دوران جنسی طور پر ہراساں ہونے کے واقعے سے کیا۔ 

مسلمان مردو خواتین نے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کیا اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسے 2000 مرتبہ ٹوئٹس میں استعمال کیا گیا۔ 

مونا کہتی ہے کہ ایک مسلمان خاتون نے میری پوسٹ پڑھنے کے بعد مجھے ای میل کی اور دوران حج اپنی والدہ کےجنسی ہراسانی کے واقعے کے متعلق بتایا۔

فارسی ٹوئٹر پر یہ ٹرینڈ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ 

بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر بتایا کہ کیسے ان کے جسم کو ٹٹولنے کی کوشش کی گئی، غیر مناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی گئی یا پھر کسی نے کیسے ان کے جسم کو رگڑنے کی کوشش کی۔ 

ایک اندازے کے مطابق دوران حج ہر سال 20 لاکھ مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ 

مریہہ سید نے لکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ اب عمرہ کرنے کے بارے میں سوچنا مشکل ہے۔ ایک ایسی چیز جسے میری یادوں میں سب سے بہترین ہونا چاہیے تھا اور جسے مجھے خدا کے اور قریب کرنا چاہیے تھا لیکن اس نے مجھے تباہ کر دیا۔

ایک صارف کالی نے لکھا: ‘میں نے بعض مردوں کی وجہ سے رمضان میں تراویح پڑھنا چھوڑ دیں۔ میں خاموش رہی کیوں کہ میں نے سوچا کوئی مجھ پر یقین نہیں کرے گا یا پھر کہا جائے گا کہ میرا دماغ کچھ زیادہ ہی تیز چلنے لگا ہے۔’

ایڈن برگ سے اینگی لگاریو نے لکھا کہ میں نے MosqueMeToo# کے بارے میں پڑھا۔ اس نے مجھے سنہ 2010 کے حج کی خوفناک یادوں میں لے دھکیل دیا۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مکہ مسلمانوں کا مقدس ترین شہر ہے وہاں کوئی کچھ غلط نہیں کرے گا تو یہ بالکل غلط ہے۔

اسلام کا ایک اہم ستون خاتون کی عزت بھی ہے اسے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنے سر کے بالوں اور جسم کو ڈھک کر رکھے جس کامقصد مردوں کی جانب سے ایذا رسائی یا ان کی توجہ سے بچنا اور اپنے وقار کو قائم رکھنا ہے۔

لیکن ایران، مصر، سعودی عرب اور افغانستان کی بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ پروقار لباس پہن کر بھی انھیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

می ٹو کے اس نئے ہیش ٹیگ جو مسجد سے متعلق ہے کہ حامی کہتے ہیں کہ مقدس مقام پر جہاں عورت مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور عبادت کر رہی ہوتی ہے وہاں بھی اسے ہراساں کیا جاتا ہے اس پر حملہ کیا جاتا ہے۔

نرگس نے لکھا کہ طواف کے دوران زائرین کو خبردار کیا جاتا ہے۔ میرے والد طواف کے دوران میری والدہ کی حفاظت کے لیے ان کے پیچھے چلتے رہے۔ مرد کچھ نہ کریں یہ بات باعث حیرت ہے۔ 

بہت سی فارسی بولنے والی اور ایرانی خواتین نے نہ صرف ہراسانی کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے ہیں بلکہ اس خیال کو بھی چیلنج کیا ہے کہ حجاب خواتین کو ہراسانی سے بچا سکتا ہے۔ 

ایران میں حجاب لینا ضروری ہے۔ وہاں شہر میں ایسے پوسٹرز لگے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں ایک بغیر نقاب کے عورت کو بغیر کاغذ میں لپٹی ٹافی اور لولی پاپ سےموازنہ کیا جاتا ہے۔ 

ہر دفتر کے باہر دیوار پر یہ جملہ لکھا ہوتا ہے کہ ’حجاب ایک حد نہیں یہ آپ کی حفاظت ہے۔‘

حالیہ ہفتوں میں ایران میں حکام نے 29 افراد کو اس وقت حراست میں لیا جب انھوں نے حجاب کے لازمی اوڑھنے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ 

تہران کے مرکز میں ایک خاتون نے اپنا سکارف احتجاجاً اتارا جہاں سے اس تحریک کا آغاز ہوا جسے ’گرلز آف ریولیوشن سٹریٹ‘ کہا جاتا ہے۔

لیکن ہر کوئی #MosqueMeToo کا حامی نہیں اور کچھ لوگ مونا ایلتھوے کو سوشل میڈیا پر اس موضوع کو سامنے لانے پر انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔