بختاور کا قانونی نوٹس، بینظیر پر کتاب کی تقریبِ رونمائی منسوخ

کراچی میں جمعے سے شروع ہونے والے لٹریچر فیسٹیول کے منتظمین نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو کی جانب سے قانونی نوٹس بھیجے جانے کے بعد سابق سفیر اور سیاستدان عابدہ حسین کی کتاب کی تقریبِ رونمائی منسوخ کر دی ہےـ

عابدہ حسین کی نئی کتاب سپیشل سٹار: بینظیر بھٹو میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کی زندگی کے مختلف پہلؤوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تاہم بختاور بھٹو زرداری نے جمعرات کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں عابدہ حسین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا کہ ’میری ماں کی موت کے دس سال بعد ان سے متعلق بالکل جھوٹ لکھا گیا ہے جب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔‘

بختاور بھٹو کی جانب سے کتاب کی مصنفہ عابدہ حسین، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور کے ایل ایف کی بانی امینہ سید اور سلمی عادل کو قانونی نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

اس قانونی نوٹس میں انھوں نے عابدہ حسین پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے بینظیر سے اپنی جھوٹی وابستگی ظاہر کر کے ان کے بارے میں غلط تاثر دینے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہےـ

نوٹس میں امینہ سید کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ کےـ ایل ـ ایف میں کتاب کی ہونے والی تقریبِ رونمائی فوری طور پر روک دیں ـ 

اس بارے میں امینہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے تقریبِ رونمائی روک دی ہے اور ساتھ ہی پروگرام کے نئے شیڈول میں ترمیم کرتے ہوۓ عابدہ حسین کا نام میلے میں شامل مصنفوں کی فہرست سے بھی ہٹا دیا ہےـ

’دیکھیں یہ کتاب ہم نے شائع کی تھی اور ہم ارادہ رکھتے تھے کے اس کی رونمائی کے-ایل-ایف میں کریں گےـ فی الحال تو ہم نے رونمائی منسوخ کر دی ہے اور کتاب کی فروخت بھی روک دی ہےـ‘

امینہ سید کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم نے انفرادی طور پر ماہرین سے رجوع کیا ہے جو اس کتاب کو بھی پڑھیں گے اور آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے کیونکہ ہم اس طرح کی غلطی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘ 

اس کتاب میں عابدہ حسین نے بینظیر کی ابتدائی زندگی جس میں ان کی تعلیم، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور 1975 میں عابدہ حسین سے ہونے والی پہلی ملاقات کا تذکرہ کیا ہےـ 

اس کے علاوہ بینظیر کے پہلے دورِ حکومت، اس حکومت کا گِرنا، پھر دوسرے دورِ حکومت اور پھر جلاوطنی کا بھی تذکرہ ہےـ 

بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ عابدہ حسین نے کہا کہ ان کو اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے کال موصول ہوئی جس میں ان کو بتایا گیا کہ انھیں تین نوٹس جاری ہوۓ ہیں اور ایک اُنھیں جاری کیا گیا ہےـ 

ان کا کہنا تھا کہ ’میری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ میں نے کوئی منفی بات تو لکھی نہیں ہے، زیادہ تر تو میں نے ان کی (بینیظیر بھٹو کی) تعریف ہی لکھی ہےـ اور انھوں نے بھی واضح نہیں کیا کہ ان کو کیا بات بری لگی ہےـ مجھے ابھی تک نوٹس موصول نہیں ہوا ہےـ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےـ ابھی لاہور لٹریری فیسٹیول بھی آنے والا ہے شاید اس میں تقریبِ رونمائی ہو جائےـ‘

اس بارے میں پی پی پی کی قیادت کی طرف سے جاری کیے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’کتاب کی مصنفہ نے پیش لفظ میں اپنے آپ کو بی بی کا دوست ظاہر کیا ہے جو کہ کتاب میں کیے گئے باقی تجزیوں کی طرح غلط ہےـ‘

اس کے علاوہ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ کتاب بینظیر کی موت کے دس سال بعد لکھی اور شائع کی جارہی ہے جس میں وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتیں جو محترمہ اور ان کے پیروکاروں کی بےعزتی کے مترادف ہےـ