مشال خان قتل کیس میں سزاؤں کے خلاف احتجاج، رہا ہونے والوں کو خوش آمدید

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں مشال خان قتل کے جرم میں 31 ملزمان کو سزا دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا اور جلوس نکالا گیا جبکہ رہا ہونے والے افراد کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔ 

یہ احتجاج اور ریلی جمعے کو متحدہ دینی محاذ مردان کے زیر انتظم منعقد کی گئی جس میں تحفظ ختم نبوت، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں اور تنظیموں کے مقامی عہدیدار اور کارکن موجود تھے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق احتجاجی ریلی نماز جمعہ کے بعد پاکستان چوک پر منعقد کی گئی جس کے بعد کاٹلنگ چوک کی جانب روانہ ہو گئی۔ 

اس ریلی میں شامل کارکن نعرے لگاتے رہے اور مشال خان اور ان کے حامیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔

مشال خان قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

مقررین نے کہا کہ مشال خان توہین مذہب کا مرتکب ہوا تھا اور گرفتار اور رہا ہونے والے افراد اس کے شاہد ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک یہاں نہیں رکے گی بلکہ سزائے موت پانے والے عمران علی کی رہائی تک جاری رہے گی۔ 

اطلاعات کے مطابق اس ریلی میں دو روز پہلے سنٹرل جیل ہری پور سے رہا ہونے والے کچھ افراد بھی شریک تھے۔ 

جیل سے بری ہونے والے افراد کو دو روز پہلے مردان موٹر وے انٹر چینج پر خوش آمدید بھی کہا گیا تھا جہاں مقامی قائدین کے علاوہ رہا ہونے والے ایک نوجوان نے بھی تقریر کی تھی۔ 

خیال رہے کہ مشال خان کے قتل کے جرم میں سات فروری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہری پور جیل میں فیصلہ سنایا تھا۔

قتل کے جرم میں 57 افراد گرفتار کیے گئے تھے جن میں ایک عمران علی کو سزائے موت اور پانچ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 25 افراد کو تین سے چار سال قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ 

مشال خان کو گذشتہ سال 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام پر تشدد کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ 

اس واقعے کے حوالے سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یا جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ مشال خان توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔