کیا چاہتے ہو پورے پاکستان کو لٹکا دیا جائے؟‘

سوشلستان میں اس وقت عابد باکسر، شہباز شریف، فاروق ستار، خیبر پختونخوا پولیس اور ایگزیکٹ ٹرینڈ کر رہے ہیں اور ان سب موضوعات پر تبصرے جاری ہیں۔ 

مگر اسی ہفتے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبِ علم مشال خان کے قتل کیس کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر آنے والے کمنٹس اور تبصروں پر بات کریں گے۔

بی بی سی اردو کے قارئین نے جہاں اس خبر پر بہت ردِ عمل دکھایا وہیں بہت سے ایسے بھی لوگ تھے جنھیں اس بات پر اعتراض تھا کہ اس خبر کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔

تاہم بہت سے لوگوں کو مشال کے والدین اور بھائی کی طرح اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ اتنے بڑی تعداد میں ویڈیو پر سامنے آنے کے باوجود کیوں چھوڑ دیا گیا۔ مگر اس کے برعکس لوگوں کا یہ بھی موقف تھا کہ ‘ایک شخص کی خاطر پورے شہر کو تو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔’

اس بارے میں مزید پڑھیے

زاہد چٹھہ نے جنوبی افریقہ سے اور عزیز اللہ نے دبئی سے کمنٹ کیا کہ ‘ہمیں تو کچھ پتہ نہیں، لیکن شک پڑتا ہے کہ مشال کے معاملے میں کچھ تھا۔ وہ شاید اتنا معصوم نہیں تھا جتنا اسے پیش کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ’پوری کہانی سامنے آئے گی پر وقت گزرنے کے ساتھ۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جو ملوث تھے قانون کے لپیٹے میں آ گئے۔ پوری جامعہ کو پھانسی پر تو نہیں لٹکایا جاسکتا۔ قاتل کو سزا مل گئی، ساتھ چار لوگوں کو 25 سال قید، اب آپ کیا چاہتے ہو پورے پاکستان کو لٹکا دیا جائے؟’

مگر علی اکبر چانڈیو اس سے متفق نہیں نظر آئے، جنہوں نے لکھا کہ ‘اگر ایک کروڑ لوگ بھی ایسے وحشت بھری سفاکی میں ملوث ہوں تو ایک کروڑ ہی مجرم ہوئے اور سب کا انجام ایسا ہی ہو۔’

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بری کیے جانے والے ملزمان کے نوشہرہ کے قریب رشکئی میں استقبال کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد سے شاہد خان نے اس بارے میں لکھا کہ ‘جج صاحب، یہ کیسا انصاف ہے؟ مشال کے قاتل بھرے مجمع میں اقبالِ جرم کر رہے ہیں۔ یہ پختونخوا حکومت کا بھی فرض ہے کہ اس قاتل مجمع میں موجود ہر گناہ گار کو اپنے انجام تک پہنچائے۔ یہ نہ صرف خونِ ناحق ہے بلکہ ریاست کی تضحیک اور اس کی عملداری کی تذلیل ہے۔’

محمد عطا العلیم صدیقی نے لکھا کہ ‘ہمارے ملک میں جہلا کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تعلیمی ادارے تک اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ اس قوم پر عذاب نہ بھیجے تو کیا کرے؟’

پشاور سے فہیم جی خلیل نے بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر لکھا کہ ‏’مشال کے قتل کا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ مشال گستاخ رسول تھا، ‏پر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ اتنے ملزمان میں سے ایک بھی مردِ مجاہد نہ نکلا جو تسلیم کر لیتا کہ میں نے مشال کو گستاخی پر مارا۔ ‏پس ثابت ہو گیا کہ سب کے سب بزدل تھے جو صرف فسادی تھے اور جانیں لینا جانتے تھے۔’

آخر میں کوئٹہ سے عبدالمقیت نے لکھا کہ ‘توہین کے ثبوت مٹا دیے گئے۔ تفتیش ناقص رہی۔ انصاف نہیں ہوا، صرف دستیاب یک طرفہ شواہد پر فیصلہ آیا ہے۔’