کامران ٹیسوری: سو سنار کی ایک ستار کی

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے ایم کیو ایم کی ’سنار کی سو‘ کے بارے میں تو ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ آ چکا ہے لیکن وہ لوہار کون ہو گا جس کی ‘ایک’ سے کوئی فیصلہ ہو جائے؟ اس جواب کے لیے شاید مزید کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اپنے ایک رہنما کے سینیٹ میں جانے یا نہ جانے کے معاملے پر واضح طور پر تقسیم ہے۔ یہ رہنما ایک سنار ہیں اور ان کا نام کامران ٹیسوری ہے۔ 

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اس بات پر مصر ہیں کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنایا جائے جبکہ پارٹی کی رابطہ کمیٹی سمیت دیگر رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست نہیں۔ یہی بات ایم کیو ایم پاکستان میں تقسیم کی وجہ بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں شامل ہونے سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل رہے جہاں ان کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوئے لیکن قسمت ان پر مہربان رہی اور وہ سیاست کے ساتھ ساتھ زمینوں کے کاروبار میں بھی ‘کامرانیاں’ حاصل کرتے رہے۔

آخر کامران ٹیسوری میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان اپنے اس سربراہ کی بات نہیں مان رہی جس کو اس نے چند ماہ قبل راضی کر کے استعفیٰ واپس لینے پر رضا مند کیا تھا؟

کامران ٹیسوری ہمیشہ سے سنار نہیں ہیں۔ اس سے قبل وہ منی چینجر کا کام کرتے تھے۔ سنہ 1990 کی دہائی میں ٹیسوری گولڈ کا قیام عمل میں آیا جس میں ترقی کے ساتھ ساتھ کامران ٹیسوری کی سیاست میں دلچسپی بھی بڑھتی گئی۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب ارباب غلام رحیم وزیرِ اعلیٰ سندھ بنے تو کامران ٹیسوری کی ان سے قربت بڑھتی گئی اور پھر نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کئی وزرا بھی اپنے کاموں کے لیے وزیرِ اعلیٰ سے پہلے ان سے رابطے کرنے لگے۔

پیپلز پارٹی کے اہم رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ارباب غلام رحیم اور امتیاز شیخ کے درمیان اختلافات کی وجہ بھی کامران ٹیسوری تھے۔ 

مشرف دور کے بعد ملک میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور ذوالفقار مرزا وزیرِ داخلہ بنے تو انھوں نے کامران ٹیسوری پر بدین میں زمینوں پر قبضے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے جس میں کامران ٹیسوری کو جیل جانا پڑا۔

کامران ٹیسوری نے جیل سے رہا ہونے کے بعد سنہ 2013 میں مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کی تاہم اس کے کچھ ہی عرصے میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اختلاف پیدا ہو گیا جس کی وجہ مبینہ طور پر کامران ٹیسوری کو قرار دیا جانے لگا۔ اس کے بعد انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

صحافی آصف محمود کے مطابق انھوں نے ٹیلی فون پر اس وقت کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے کامران ٹیسوری کی بات کرائی جس میں انھوں نے پارٹی میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 

کامران ٹیسوری کی سیاسی تاریخ کی بنا پر اس وقت ایم کیو ایم کے چوٹی کے رہنماؤں نے ان کی ممبر شپ پر اعتراض کیا اور وہ اس وقت ایم کیو ایم میں شامل نہیں ہو سکے۔ اعتراض کرنے والے رہنماؤں میں عادل صدیقی، حماد صدیقی اور بابر غوری بھی شامل تھے۔

قسمت یہاں بھی کامران ٹیسوری پر مہربان ہوئی اور چند ہی سالوں کے دوران ایم کیو ایم میں بڑی تبدیلی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آئی جس کے سربراہی فاروق ستار کے حصے میں آئی۔

فاروق ستار سے قربت بڑھانے کے بعد کامران ٹیسوری بالآخر تین فروری سنہ 2017 میں ایم کو ایم پاکستان میں شامل ہو ہی گئے۔

کامران ٹیسوری ایک سال کے عرصے میں ایم کیو ایم میں اس مقام پر پہنچ گئے جہاں 20، 25 سال کی سیاسی جدو جہد کرنے والے پہنچ پاتے ہیں۔ انھیں ایم کیو ایم میں شمولیت کے ایک سال کے دوران صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 114 سے ضمنی انتخاب کا ٹکٹ ملا، انتخاب میں ناکامی کے باوجود رابطہ کمیٹی کی ممبر شپ ملی اور وہ فوراً ڈپٹی کنوینر بنا دیے گئے۔

ایم کیو ایم میں اس تیز رفتار ترقی پر بہت سے کارکنان اور رہنماؤں نے اعتراض کیا جس پر ناراضی ہوئی اور کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم سے استعفے کا اعلان کر دیا لیکن یہاں بھی قسمت ان پر مہربان ہوئی اور پارٹی سربراہ کی والدہ نے انھیں منایا اور وہ پھر ایم کیو ایم کا حصہ بن گئے۔

کامران ٹیسوری کے سینیٹ کے انتخاب میں پھر فاروق ستار نے ان کا نام سرِفہرست رکھا جس پر ایم کیو ایم میں پھر اختلافات پیدا ہوئے لیکن اس بار معاملہ کچھ مختلف اور شدید ہے۔ اس اختلافِ رائے پر پارٹی دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے جس میں رابطہ کمیٹی ایک جانب جبکہ فاروق ستار کے بقول ان کے ممبران صوبائی اسمبلی کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

کاغذاتِ نامزدگی تک تو کامران ٹیسوری پر اختلاف رائے برقرار ہے لیکن آگے چل کر شاید یہ ختم ہوجائے کیونکہ خود کامران کا کہنا ہے ‘اگر فاروق بھائی نے کہا تو ایک منٹ سے پہلے دستبردار ہو جاؤں گا لیکن اگر انھوں نے کہا کہ لڑو تو پھر چاہے کوئی اپنی انا کا مسئلہ بنائے یا کوئی اور خواہش رکھے میں اپنے لیڈر کی بات ماننے کا پابند ہوں۔‘

ایم کیو ایم پاکستان میں کامران ٹیسوری کی تیز رفتار ’کامرانیوں‘ میں فاروق ستار کی ’مہربانیوں‘ کا عمل دخل کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے لیکن اس کی وجہ ان کی دولت، ان کا کاروبار، فاروق ستار سے ان کی ذاتی قربت یا پھر فاروق ستار ان کو مستقبل میں ایم کیو ایم کا اثاثہ سمجھتے ہیں اس کا جواب فاروق ستار نے اس طرح دیا۔ ’مسئلہ سینیٹ کے ٹکٹ کا نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا ہے۔‘

اتنے بڑے مسئلے کی سنگینی کا انداز ہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عرصے سے خاموش اور کینیڈا میں مقیم رہنما حیدر عباس رضوی بھی اس معاملے پر بول پڑے اور کھل کر پارٹی کے سربراہ کی مخالفت کی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے ایم کیو ایم کے پاس 38 نشستوں کا الیکٹورل کالج ہے جبکہ 21 نشستوں پر جنرل نشست کا ایک امیدوار کامیاب ہوتا ہے۔ 

کامران ٹیسوری کی سیاسی کامرانیوں کا سلسہ جاری رہے گا یا انھیں سربراہ کے کہنے پر دستبردار ہونا پڑے گا۔ ان کے سینیٹر بننے پر ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنما اور کارکنان کس طرح کا ردِ عمل ظاہر کریں گے اور پارٹی کے مستقبل کے لیے یہ کیسا رہے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔