قدیم انگریز سانولے رنگ کے تھے؟

ایک جدید ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دس ہزار سال قبل ایک برطانوی کی جلد خاصے گہرے رنگ کی تھی۔ 

لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم اور یونیورسٹی کالج آف لندن کے سائنس دانوں نے 1903 میں دریافت ہونے والے ایک شخص کی باقیات سے ڈی این اے نکال کر اس کا تجزیہ کیا اور پھر اس کی بنیاد پر اس کے چہرے کے نقوش اور رنگت کا تخمینہ لگایا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی افراد کی سفید رنگت بعد میں وجود میں آئی ہے۔ 

اس تحقیق سے گذشتہ برفانی دور کے بعد برطانیہ میں آ بسنے والے پہلے انسانوں کے بارے میں قابلِ قدر معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ 

اس شخص کو چیڈر مین کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا ڈھانچہ 115 سال قبل سمرسیٹ کاؤنٹی کے علاقے چیڈر گورج کے ایک غار سے ملا تھا۔

ڈھانچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا قد ساڑھے پانچ فٹ تھا اور مرتے وقت اس کی عمر 20 برس کے قریب تھی۔

مرکزی تحقیق کار پروفیسر کرس سٹرنگر نے کہا: ‘میں چیڈر مین کے ڈھانچے پر 40 سال سے کام کر رہا ہوں۔ اب اس آدمی کا چہرہ دیکھنا، اس کے بال، چہرہ، آنکھوں کا رنگ اور گہری رنگت کی جلد۔ چند سال پہلے ہم اس چیز کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔’

اس شخص کی کھوپڑی پر پائے جانے والے نشانات سے لگتا ہے کہ اس کی موت تشدد سے ہوئی تھی۔ امکان ہے کہ اس کے قبیلے والوں نے اسے اس غار میں لا کر ڈالا تھا۔ 

چیڈر مین کو مرے ہزاروں سال گزر گئے تھے لیکن اس کے جسم سے اتنا ڈی این اے مل گیا جس کا تجزیہ کیا جا سکے۔ 

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کے بالے کالے اور ممکنہ طور پر گھنگریالے تھے، آنکھیں نیلی اور جلد کی رنگت گہری سانولی تھی۔ 

آج یہ امتزاج تھوڑا عجیب لگے گا لیکن اس دور کی یورپی آبادی میں یہ عام تھا۔ 

چینل فور کے ڈائریکٹر سٹیون کلارک چیڈر مین پر ایک دستاویزی فلم تیار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘ہم اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں جلد کا رنگ پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔’

سوشل میڈیا پر یہ خبر بہت زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 

سائنس دانوں کے مطابق برطانیہ میں سفید رنگت والے انسان آج سے تقریباً چھ ہزار سال مشرقِ وسطیٰ سے یورپ میں داخل ہوئے۔ یہ آبادی یورپ میں پہلے سے رہنے والے چیڈر مین جیسے لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ 

یہ معلوم نہیں ہے کہ رنگت سفید کیسے ہوئی لیکن ایک خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کی خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی تھی، جس کی وجہ سے انھیں سورج کی روشنی کے جلد پر پڑنے سے یہ وٹامن حاصل کرنا پڑا۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ جینیات پروفیسر مارک ٹامس کہتے ہیں: ‘اس کے دوسرے عوامل بھی ہو سکتے ہیں لیکن سائنس دانوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ بڑی وجہ یہی رہی ہو گی۔’

چیڈر مین کے ڈی این اے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ دودھ ہضم کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔ بالغ انسانوں میں یہ صلاحیت کانسی کے دور میں پیدا ہوئی۔ 

چیڈر مین کے دور میں برطانیہ یورپ کے ساتھ خشکی کے ذریعے جڑا ہوا تھا اس لیے وہاں سے مہاجرین کی کئی لہریں آ کر یہاں آباد ہوتی رہیں۔