اسما قتل کیس: 15 سالہ رشتہ دار ڈی این میچ ہونے پر گرفتار‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد چار سالہ بچی اسما سے جنسی زیادتی کی کوشش اور ان کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مردان کے آر پی او عالم شنواری نے بدھ کو ایک پریس کانفرس میں بتایا ہے کہ 15 سالہ ملزم اسما کا قریبی رشتہ دار بھی ہے جو اس کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا۔

ان کے مطابق ملزم ایک ریستوران میں یومیہ اجرت پر کام کرتا تھا اور واقعے کے دن کام پر نہیں گیا تھا۔

ریجنل پولیس افسر کے مطابق وقوعے کے دن دوپہر تین بجے ملزم نے بچی کو مقامی دکان کے سامنے اکیلا کھڑے دیکھا تھا۔ اس وقت بچی کے چچا نے اسے کہا تھا کہ وہ گھر چلی جائے اور جب وہ گھر کی طرف جا رہی تھی تو ملزم راستے میں کھڑا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ لڑکی نے ملزم سے کہا کہ اسے گنّا چاہیے، تو ملزم نے اس کھیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے جا کر لے آؤ۔ بچی پہلے ایک ٹکڑا لائی اور جب دوسرا لینے گئی تو ملزم نے دیکھا کہ اطراف میں کوئی نہیں تو وہ اسے کھیت کے اندر لے گیا۔

’ملزم نے جنسی زیادتی کی کوشش کی تو بچی نے چیخنا شروع کر دیا، ملزم ڈر گیا کہ قریبی لوگ کہیں متوجہ نہ ہو جائیں تو اس نے بچی کا گلا دبانے کی کوشش کی لیکن جب پتہ چلا کہ بچی کی موت اس طرح نہیں ہو گی تو اس نے منہ اور ناک پر ہاتھ رکھا تاکہ اس کی سانس بند ہو جائے، اس کے چار سے پانچ منٹ بعد بچی کی موت واقع ہو گئی اور ملزم وہاں سے اپنے گھر چلا گیا۔‘

آر پی او کے مطابق ملزم کئی روز تک پولیس کے ساتھ سرچ آپریشن میں شامل رہا اور گنے کے کھیتوں میں بھی گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم کا ڈی این اے بچی کے خون کے ایک قطرے سے میچ کیا جو ایک پتے پر تھا اور پولیس کو کھیتوں سے ملا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم نے اپنے ایک دوست کو بچی کے قتل کے بارے میں بتایا تھا تاہم اس نے پولیس کو اس ضمن میں لاعلم رکھا۔ پولیس نے ملزم کے اس دوست کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
منگل کو حکومتِ پنجاب کا کہنا تھا کہ بچی اسما سے جنسی زیادتی کے مجرم کی تلاش کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کی پولیس کی جانب سے جو ڈی این اے کے نمونے فراہم کیے گئے تھے ان میں سے ایک بچی کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے مل گیا ہے۔

منگل کو پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جو 145 نمونے فراہم کیے گئے تھے ان میں دو ایسے نمونے اسما کے جسم سے ملنے والے مواد سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد پولیس نے اسما کے دو قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کیا تھا۔
مردان کے علاقے گجر گڑھی کی چار سالہ اسما کو جنوری کے دوسرے ہفتے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی لاش قریبی کھیتوں سے ملی تھی۔
پوسٹ مارٹم میں اسما سے جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی اور خیبر پختونخوا کے حکام نے اس معاملے میں لاہور میں واقع پنجاب فورینزک لیبارٹری سے مدد لی تھی۔
خیال رہے کہ منگل کو ہی پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران پنجاب فورینزک لیب کو جلد رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس معاملے میں خیبرپختونخوا پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔