ٹیسٹ کرکٹ اور پچ ضوابط: کھیل پانچ دن کا، نتیجہ صفر‘

سری لنکا اور بنگلہ دیش چٹاگانگ میں مدمقابل تھے۔ پانچ دن تک یہ مقابلہ جاری رہا۔ پانچ دن کے پندرہ سیشنز میں 1533 رنز بنے، 24 وکٹیں گریں اور یوں پانچویں دن چائے کے وقفے کے کچھ ہی دیر بعد دنیش چندیمل اور محموداللہ نے ہاتھ ملا کر باہم رضامندی سے میچ ڈرا ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔

ابھی ڈیڑھ ہی ہفتہ پہلے

چار دن اور قریب ساڑھے گیارہ سیشنز پہ محیط اس مقابلے میں صرف 805 رنز بنے اور اتنے میں ہی 40 وکٹیں گر گئییں۔ نتیجہ سامنے آ گیا۔

کسی بھی ٹیسٹ میچ کو، ہر طرح کے اگر مگر سے ماورا ہو کر، نتیجہ خیز ہونے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ پانچ دن میں چار اننگز کھیل لی جائیں۔ 40 نہ سہی، کم ازکم 30 وکٹیں تو گر جائیں۔ ورنہ پانچ دن کا اعصاب شکن مقابلہ اگر صرف برابری پہ ہی منتج ہو جائے تو نہ صرف یہ 22 کھلاڑیوں کے لیے ایک لاحاصل جستجو ٹھہرتی ہے بلکہ بجائے خود یہ ٹیسٹ کرکٹ کی بقا کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

اس میں شبہ نہیں کہ ڈرا بھی ٹیسٹ کرکٹ کی ایک خوبصورتی ہے۔ کیونکہ فی زمانہ یہی دنیا کا واحد کھیل ہے جو اتنی طوالت کے بعد بھی برابری پہ ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسی خوبصورتی سے خود کھیل کی بقا ہی خطرے میں پڑ جائے تو یقینا آئی سی سی کو کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔

2006 میں آئی سی سی نے کرکٹ پچز کی کوالٹی اور نتیجہ خیزی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ پچ ریگولیشنز متعارف کرائے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک کئی انٹرنیشنل وینیوز کی پچز کو کھیل کے لیے نامناسب قرار دیا جا چکا ہے۔ دہلی کی پچ تو ایک سال کی پابندی بھی جھیل چکی ہے۔

لیکن فی الوقت پچ ریگولیشنز صرف کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پہ ہی مرکوز ہیں۔ یعنی اگر کسی پچ میں غیر متوازن باؤنس نظر آتا ہے جس سے کھلاڑیوں کو چوٹ لگنے کا خدشہ ہو، یا ٹیسٹ میچ کے بالکل آغاز میں ہی گیند بہت زیادہ سپن ہونا شروع کر دے، یا پھر پچ بہت جلدی توڑ پھوڑ کا شکار ہو جائے یا بعض معاملات میں اگر پانچ دن گزرنے کے بعد بھی پچ میں کوئی توڑ پھوڑ نہ ہو، تو پچ کو ناموزوں قرار دیا جاتا ہے۔ میلبرن کا حالیہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ بھی اسی باعث ڈرا ہوا تھا۔

جوہانسبرگ میں ڈین ایلگر غیر متوقع باونس کے سبب زخمی ہوئے تو امپائرز نے تیسرے روز کا کھیل جلدی ختم کر دیا۔ میچ کو موخر کرنے پہ بھی غور کیا گیا۔ لیکن بعد ازاں دونوں کپتانوں کی مشاورت سے میچ جاری رکھا گیا۔

لیکن چٹاگانگ ٹیسٹ میں جس طرح کی وکٹ دیکھنے کو ملی، اس سے آئی سی سی کے پچ مانیٹرنگ ضوابط پہ بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ جب ایک وکٹ پانچ روز میں قریب چار سو اوورز پھینکے جانے کے باوجود کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر پاتی تو اسے کھیل کے لیے موزوں قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

چٹاگانگ ٹیسٹ کے پہلے روز رنز بننے کی رفتار زیادہ رہی اور ساتھ ہی وکٹیں گرنے کی بھی، لیکن دوسرے روز یہ دونوں عوامل سست روی کا شکار ہو گئے۔ جوں جوں میچ آگے بڑھتا گیا، رن ریٹ بھی دھیما پڑتا گیا اور وکٹیں گرنے کا عمل بھی۔ عموما ہوتا یہ ہے کہ جب رنز بننے کی رفتار کم ہو اور پچ سست ہوتی جائے تو سپنرز کو پچ سے مدد ملنے لگتی ہے۔ لیکن یہاں ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کی وکٹ کے لیے آئی سی سی کے پچ مانیٹرنگ ضوابط میں کوئی ریٹنگ کیوں نہیں ہے۔ کیونکہ بہرطور اس پہ تو سبھی متفق ہیں کہ ایک موزوں پچ وہی ہے جو گیند اور بلے کے درمیان درست توازن برقرار رکھے۔ لیکن جہاں پندرہ سو سے زائد رنز بن گئے، وکٹیں صرف 24 گریں، اور میچ بھی بےنتیجہ رہا تو کیا وہ پچ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں کہلائی جا سکتی ہے؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پچ کی تیاری میں کس کی مداخلت بجا ہے اور کس کی نہیں۔ کیونکہ جب ایک پچ کو بری ریٹنگ ملتی ہے تو اس کے نتیجے میں ذمہ دار صرف متعلقہ کیوریٹر کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب پچ تیار ہو رہی ہوتی ہے تو سارا دھیان میزبان کپتان کی خواہشات پہ ہوتا ہے۔

انڈیا اور جنوبی افریقہ کی حالیہ سیریز کو ہی دیکھ لیجیے۔ ہر میچ سے پہلے فاف ڈوپلیسی میڈیا پر بتا رہے تھے کہ وہ کس طرح کی وکٹ چاہتے ہیں لیکن جب جوہانسبرگ میں ایک جان لیوا وکٹ دیکھنے کو ملی تو سارا ملبہ کیوریٹر پہ ڈال دیا گیا۔ تب ڈوپلیسی سے کسی نے نہ پوچھا کہ کہیں یہ سب ان کی خواہشات میں رنگ بھرنے کی کاوش میں تو نہیں ہوا۔

اس سے پہلے بھی یہی ریت ہے کہ عموما میزبان کپتان میچ سے پہلے باقاعدہ فرمائش کرتے پائے گئے ہیں کہ انھیں کس طرح کی وکٹ چاہیے۔ دھونی تو بلکہ ایک بار ایک کیوریٹر کی کارکردگی سے خوش ہو کر دس ہزار روپے انعام بھی دے چکے ہیں۔

اس روایت سے نہ صرف گیند اور بلے کا توازن مجروح ہوتا ہے بلکہ متعلقہ وینیو کی وکٹ کے اپنے خواص بھی میزبان کپتان کی خواہشات تلے دب جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہمیں توازن سے عاری اور نتائج سے بے پروا قسم کی کرکٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس روایت کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ جب ایک ہی وقت، دنیا کے دو مختلف حصوں میں مختلف رفتار کی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جاتی ہے تو اس سے ٹیسٹ کرکٹ کی پائیداری پہ سوالات اٹھتے ہیں کہ ایک ہی طرح کا میچ اگر ایک جگہ پہ تین دن میں ختم ہو جاتا ہے، تو پھر دوسری جگہ پانچ دن بعد بھی بےنتیجہ کیوں رہتا ہے۔

آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ کو بچانے کے لیے اپنے تئیں خاصی سنجیدگی دکھا رہی ہے لیکن اگر پچ ضوابط میں خاطر خواہ بہتری نہ لائی گئی اور پچ کی تیاری میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو ناگزیر انجام قریب تر ہوتا جائے گا۔