اسلامی سکالر طارق رمضان پر ریپ کی فردِ جرم عائد

 

 

عدالتی ذرائع کے مطابق معروف اسلامی سکالر طارق رمضان پر ریپ کی فردِ جرم عائد کرنے کے بعد انھیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دو عورتوں نے الزام لگایا تھا کہ طارق رمضان نے انھیں فرانس کے ہوٹلوں میں جنسی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔
رمضان کو بدھ کو حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔
وہ ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔
طارق رمضان سوئٹزرلینڈ کے شہری ہیں اور ان کے دادا حسن البنا نے مصر میں اخوان المسلین تحریک کی بنیاد ڈالی تھی۔
رمضان برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔
دو روز تک پوچھ گچھ کے بعد 55 سالہ طارق کو تین میجسٹریٹوں کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انھیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ چار دن کے اندر اندر ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہو گی۔

ان پر الزام لگانے والی ایک خاتون ہیندا عیاری کی وکیل جوناس حداد نے کہا: ‘اگر فرانس یا کسی اور ملک میں کوئی متاثرہ خاتون موجود ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ نظامِ انصاف ان کا ساتھ دے گا۔’
ذرائع کے مطابق جن عورتوں نے اپنا نام خفیہ رکھ کر ان کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں اب وہ باقاعدہ ریپ کا مقدمہ درج کروائیں گی۔
اسلامی دانشور طارق رمضان کے خلاف ان الزامات نے اسلامی دنیا کو منقسم کر دیا ہے، اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ مغرب میں ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں معتدل لب و لہجے میں گفتگو کرنے والے طارق رمضان جب عربی میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہیں تو ان کا انداز زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں metoo# کے نام سے شروع ہونے والی مہم کے بعد سے طارق رمضان وہ ممتاز ترین شخصیت بن گئے ہیں جن کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ شروع کیا گیا ہے۔
رمضان شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کے باپ ہیں۔ وہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
پہلا الزام عیاری نے لگایا تھا۔ وہ پہلے قدامت پسند اسلام کی پیروکار تھیں تاہم اب حقوقِ نسواں کی علم بردار ہیں۔ انھوں نے 2016 میں پہلی بار ریپ کا الزام لگایا تھا تاہم اس وقت مرد کا نام نہیں لیا تھا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں می ٹو مہم کے بعد انھوں نے طارق رمضان کا نام لینے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے پیرس کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ‘اس نے میرا گلہ اتنے زور سے دبایا کہ میں سمجھی میں مرنے والی ہوں۔’
انھوں نے 20 اکتوبر کو رمضان کے خلاف ریپ کی درخواست دائر کی۔ اس کے کچھ دن بعد ایک معذور خاتون نے بھی فرانسیسی شہر لیون میں الزام لگایا کہ رمضان نے 2009 میں انھیں ریپ کیا تھا۔
جمعرات کو اس خاتون نے رمضان کی موجودگی میں جج کے سامنے تین گھنٹوں تک اس واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ رمضان کے جسم کے پوشیدہ حصے پر ایک زخم کا نشان ہے، جو ویسے نظر نہیں آ سکتا۔
رمضان نے یہ الزام بھی مسترد کر دیا۔
گذشتہ تین ماہ میں پولیس نے سرگرمی سے تفتیش کرتے ہوئے رمضان اور ان خواتین سے وابستہ درجنوں لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور تینوں کے ای میل اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا کا جائزہ لیا ہے۔
نومبر میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے کہا کہ رمضان غیر معینہ مدت کے لیے چھٹی پر جا رہے ہیں۔