شام: عفرین آپریشن میں ترکی کے سات فوجی ہلاک

ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ شام کے شمالی علاقے عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی میں اس کے سات فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ترکی کے ایک ٹینک پر عفرین میں حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اس کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے۔
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ’شدت پسندوں کو اس کی دگنی قیمت چکانی ہو گی۔‘
ان کے اس اعلان کے بعد ترکی کے جنگی جہازوں نے عفرین کے شمال مشرق میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
اس بارے میں مزید پڑھیے

خیال رہے کہ ترکی نے کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی ملیشیا کو عفرین سے بے دخل کرنے کے لیے گذشتہ ماہ 20 جنوری کو کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
ترک وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔
ترکی کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حمافت یافتہ وائی پی جی نے عفرین شہر کے شمال مشرق میں شیخ حنرو میں اس کے ایک ٹینک کو نشانہ بنایا۔
ترک فوج کے مطابق اس سے پہلے اس کے دو دیگر فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک فوجی عفرین جبکہ دوسرا ترکی کے سرحدی علاقے میں مارا گیا۔ فوج نے اس حملے کا الزام وائی پی جی پر عائد کیا۔
ترکی کی جانب سے عفرین پر شروع کی جانے والی کارروائی میں اب تک اس کے 14 فوجی جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے سنیچر کو کہا کہ عفرین میں وائی پی جی کے شدت پسندوں کے خلاف شروع کیے جانے والے ’اولیو برانچ‘ نامی آپریشن کا مقصد ترکی کی سرحد سے ان کے بقول ’دہشت گرد پٹی‘ کو ختم کرنا ہے۔

انھوں نے حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ارکان کو بتایا کہ ’اس آپریشن کا مقصد عربوں اور ہمارے کرد اور ترک بھائیوں کو آزادی دلانا ہے جو طویل عرصے سے جبر کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
اس سے پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے سنچیر کو کہا تھا کہ ملکی افواج کارروائی کرتے ہوئے عفرین شہر کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔
کردوں کے مطابق ترکی کی جانب سے شروع کی جانے والی اس کارروائی میں اب تک ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن میں دس ہزار شامی باغی بھی شامل ہیں۔
ایک شامی کرد ڈاکٹر نے سنیچر کو بتایا کہ ترکی کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد سے اب تک 150 عام شہری ہلاک اور 300 زخمی ہو چکے ہیں تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

امریکہ، فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں نے ترکی سے ’تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب ہزاروں کردوں نے سنیچر کو ترکی کی کارروائی کے خلاف سٹراسبرگ میں کونسل آف یورپ کے باہر مظاہرہ کیا۔
اس طرح کا ایک مظاہرہ فرانس میں بھی کیا گیا جس میں 2,000 مظاہرین نے حصہ لیا۔
ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب امینوئل میکخواں کو یقین دلایا کہ ترکی شام کے شمالی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناتولو کے مطابق رجب طیب ارغان نے سنچیر کو امینوئل میکخواں کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ آپریش کا مقصد عفرین سے ’دہشت گردوں کا صفایا‘ کرنا ہے۔