آج پھر جینے کی تمنا ہے، آج پھر مرنے کا ارادہ ہے‘

پاکستان میں فیشن شوٹس کا انعقاد عام طور پر بند جگہوں اور سٹوڈیوز میں ہوتا ہے لیکن ایک فیشن ڈیزائنر اب فیشن کو سڑکوں پر لانے کا جرات مند کام کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک محسن سعید ہیں جنھوں نے حال ہی میں ہار سنگار کے نام سے لاہور کی وال سٹی یعنی شہر کے قدیمی علاقوں کی سڑکوں پر فیشن شوٹ کا انعقاد کیا۔
پاکستان میں فیشن کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر فیشن کو صرف کپڑے ملبوس کرنے کی حد تک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے اور یہ ایک عوامی چیز ہے جس سے نہ صرف آپ اپنے تاثرات کو بیان کر سکتے ہیں بلکہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا بھی ہے۔

کیا پاکستان میں یہ عوامی مقامات پر فیشن شوٹس کرنے کا تجربہ نیا ہے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسّی اور نوے کی دہائی میں فیشن شوٹس کو عوامی جگہوں پر اور سڑکوں پر کرنا شروع کیا کیونکہ اس کے ذریعے آپ عام ماحول، خوبصورت عمارتوں کو دکھا سکتے تھے۔

’عوامی فیشن کلچر اور عوامی طرز زندگی کی عکاسی کر سکتے ہیں جس میں شوٹ کا پس منظر بھی ایک کہانی بیان کرتا تھا۔‘
’اس وقت لوگوں کا رویہ بہت مثبت ہوتا تھا اور وہ ان سے تعاون کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے عوامی مقامات پر لوگوں نے کھلے عام فیشن شوٹ میں مداخلت کرنا شروع کر دی۔ چھ برس قبل کراچی میں ایک فیشن شوٹ کے دوران ایک شخص غصے میں میرے پاس آیا اور چلاتے ہوئے کہا کہ ’بند کرو یہ فحاشی‘۔

محسن سعید کے مطابق وہ اس رویے پر حیران رہ گئے لیکن اس کے ساتھ انھوں نے سوچا کہ آؤٹ ڈور فیشن شوٹس کو جاری رکھیں گے۔
’پاکستان میں شادی بیاہ اور دیگر تقتریبات میں سجنے سنورنے کے عنوان سے انھوں نے ہار سنگار کے عنوان سے فیشن شوٹ کو لاہور کے قدیم حصے میں کیا کیونکہ یہ اس علاقے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہاں خوبصورت عمارتیں ہیں۔‘

حالیہ فیشن شوٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ’اس کے پیھچے ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کی عوامی جگہوں پر نمائندگی یا ان کے دن بہ دن کم ہوتے تناسب اور اچھے ملبوسات میں عوامی مقامات پر جانے کی حوصلہ شکنی اور وہاں لوگوں کے رویے کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔‘

’آج کل کے ماحول میں خواتین آپ کو عوامی جگہوں پر کم نظر آتی ہیں لیکن اس طرح کے فیشن شوٹس سے ان کو اعتماد دینا اور حوصلہ دینا ہے کہ وہ بھی عوامی مقامات پر تیار ہو کر جا سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہار سنگار کے شوٹ کے دوران لوگوں نے شوٹ میں حصہ لینے والے خواتین کو گھورا اور ہجوم کی شکل میں کھڑے ہو کر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی لیکن کسی نے پاس آ کر تنگ نہیں کیا اور شوٹ میں خلل نہیں ڈالا۔

فیشن شو کا مقصد تھا کہ’ ایسی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو عادت ڈالی جائے کہ ایک خاتون تیار ہو کر ایسی جگہوں پر آ سکتی ہے اور اس کا حق ہے۔ اور ایک معمول سے اس نوعیت کی مثبت کوششیں جاری رہتی ہیں تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب لوگوں کو عادات ہو جائے اور وہ حیرانگی، گھورنے اور ناپسندگی کے اظہار کی بجائے اس کو ایک معمول کے طور پر لینا شروع کر دیے۔

’میں اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ بند کمروں، سٹوڈیوز کی بجائے عوامی مقامات پر فیشن شوٹ کریں کیونکہ اس سے نہ صرف خواتین می تحفظ کا احساس پیدا ہو گا بلکہ ملک کا عالمی سطح پر محفوظ ہونے کا پیغام جائے گا۔‘

فیشن ڈیزائنرز کے بقول اگرچہ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اکثریت ابھی فیشن کو پسند کرتی ہے چاہے اس کو برا بھلا کہیں لیکن پسند ضرور کرتے ہیں۔
محسن سعید نے کہا کہ اسی وجہ سے اس فیشن شوٹ کا پیغام بالی وڈ کے مشہور گانے کی صورت میں تھا کہ’آج پھر جینے کی تمنا ہے، آج پھر مرنے کا ادارہ ہے‘۔
’جب تک ہم خود کچھ نہیں کریں گے اور دوسری لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی عوامی سطح پر لوگوں کو اس کی عادت ہو گی کہ خاتون سج سنور کر عوامی جگہوں پر آ سکتی ہے۔‘

۔