کیا گوادر کی پیاس بُجھے گی؟

چین پاکستان راہداری منصوبے کے تحت بلوچستان کے گوادر شہر میں برسوں سے چلی آ رہی پانی کی شدید قلت کے خاتمے کے لیے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی نے پانی کی صفائی کا ڈیسیلینیشن پلانٹ نصب تو کر دیا ہے لیکن اس ساحلی شہر کے باسی اس سے زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

سرکاری اعلان تو یہ ہے کہ یہ پلانٹ 80 پیسے فی گیلن پر یومیہ ڈھائی لاکھ گیلن پانی گوادر کو فراہم کرے گا جس سے صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے ڈیمز پر انحصار کم ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے بندرگاہ اور جہاز رانی میر حاصل بزنجو نے پہلی جنوری کو بڑے اہتمام کے ساتھ اس نئے پلانٹ کا افتتاح تو کر دیا لیکن پراجیکٹ مکمل ہونے کے باوجود تاحال اس سے مقامی آبادی مستفید نہیں ہو پائی ہے۔

معاملہ صوبائی حکومت اور پورٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

اس تاخیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرپرسن دوستین خان جمالدینی نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی کی سپلائی کا انحصار اس وقت صوبائی حکومت اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدے سے مشروط ہے۔

حکومت بلوچستان اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے مطابق فری زون میں نصب پلانٹ سے گوادر کے شہریوں کو پانی دیا جائے گا۔ اس تجویز کے نکات صوبائی حکومت کے پاس دستخط کے لیے بھیجے گئے ہیں جس پر غور تاحال جاری ہے۔

دوستین جمالدینی کا کہنا ہے کہ ’اگر دیکھا جائے تو گوادر میں پینے کے پانی کی طلب اتنی نہیں ہے۔ یومیہ ایک لاکھ کی آبادی کے لیے تین لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ اس صورت میں کافی ہے اگر پینے کا پانی صرف پینے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

گوادر کی تقدیر یہاں پانی کی دستیابی سے جڑی ہے لیکن اس وقت اس شہر پر واٹر ٹینکرز کا راج ہے۔ ٹینکروں کے ذریعے یومیہ ڈھائی لاکھ گیلن پانی لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اس وقت 413 ٹینکرز دشت اور گوادر کے درمیان پانی کی ترسیل کرتے ہیں۔ ان ٹینکرز کا حال بھی کوئی اچھا نہیں اور اطلاعات کے مطابق اس وقت ٹینکرز چلانے والوں کی چھ ماہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں۔ گوادر کے لوگوں کو فی ٹینکر پندرہ ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ گذشتہ برس کی لیبارٹری رپورٹس نے اس پانی کو انسانی استعمال کے لیے مضر قرار دیا ہے۔

ٹینکرز یہ پانی 400 کلومیٹر دور واقع میرانی ڈیم سے لے کر آتے ہیں۔
مقامی رہائشی زاہدہ گلزار ہر روز چھ گھنٹے ٹینکرز کے ذریعے پانی کا انتظار کرتی ہیں۔
زاہدہ کو نئے ڈیسیلینیشن پلانٹ کے مکمل ہونے کے بارے میں معلوم ہے لیکن وہ اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’پانی لوگوں تک بروقت پہنچا دیں یہی بہت ہوگا۔ پانی اکثر گندا اور بدبودار ملتا ہے۔ یہ پانی ہم اپنے جانوروں کو بھی نہیں دے سکتے اس لیے پھینک دیتے ہیں۔‘

گوادر میں ہونے والا صنعتی کام اور آکڑا ڈیم میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی شہر میں اس کی عدم دستیابی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
لیکن کیا یہ ڈیسیلینیشن پلانٹ پانی کی کمی کو پورا کرسکے گا جیسا کہ حکومت اور پورٹ اتھارٹی عوام کو یقین دلانا چاہتی ہے؟ اس بارے میں گوادر کی عوام کی رائے حکومتی ارکان اور پورٹ اتھارٹی کے ممبران سے بالکل مختلف ہے۔

لیکن گوادر کے بعض باسیوں نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے یہ نیا پلانٹ محض چینیوں اور پاکستانی اداروں کے استعمال میں ہی آئے۔ ’ہمیں اس سے کچھ ملنے کی فی الحال امید نہیں ہے۔‘
حاجی گنگزار کا کہنا ہے کہ ’حکومت اکثر ایسے معاہدے کرتی ہے جو بعد میں نہیں چل پاتے لیکن اگر پانی کی فراہمی بروقت کی جائے اور پانی کے منصوبوں کو لوگوں کے لیے یقینی بنایا جائے تو پھر اس طرح کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔‘

دوسری طرف دوستین جمالدینی نے یاد دلایا کہ ’دشت میں موجود میرانی ڈیم آبپاشی کے مقصد کے لیے بنایا گیا تھا جس کا زیادہ تر استعمال اب پینے کے لیے کیا جا رہا ہےـ‘
ماضی میں بھی ڈیسیلینیشن پلانٹس کی بات ہوئی لیکن مقامی آبادی کو اس سے کچھ نہیں مل سکا۔ آس پاس کے علاقوں میں لگائے گئے یہ پلانٹ آج بھی غیر فعال ہیں۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مکران کے مہتمم عمران آلیانی نے بتایا کہ یومیہ دو لاکھ گیلن پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2006 میں بلوچستان کے علاقے کارواٹ میں بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت ایک منصوبے کا آغاز ہوا تھا جو 2016 میں پی ایچ ای کے زیرِانتظام کیا گیاـ

’لیکن اس وقت وہ پراجیکٹ انجینئرنگ نقص کی بنا پر بند کیا گیا ہے کیونکہ اس میں سلٹ بن رہی تھی۔ اس نقص کو صحیح ہونے کے لیے ایک مہینہ درکار ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر بوجھ ڈیمز اور پرائیوٹ ٹینکرز پر ہے۔‘

اس کے علاوہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان نئے پلانٹ لگانے پر اختلافات سال 2006 سے چلے آ رہے ہیں۔ اس بابت رقوم بھی جاری ہوئی لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق زمین پر کوئی کام نہیں ہوا۔
پی ایچ ای اس وقت گوادر ڈسٹرکٹ میں پندرہ سے بیس لاکھ گیلن پانی تقسیم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جو پینے کے ساتھ ساتھ نہانے دھونے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ پانی بھی آکڑا ڈیم سے ہی آتا ہے۔
دوستین جمالدینی نے کہا کہ گوادر میں زیرِزمین پانی نہ ہونے کے باعث زیادہ تر انحصار ڈیسیلینیشن پلانٹ پر کرنا چاہئیےـ ’حالانکہ یہ ایک مہنگی تجویز ہے لیکن حکومت کو اس پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس وقت یہی طویل المعیاد حل ہے۔‘

لیکن بڑے سرکاری ادارے جس طرح سے گوادر میں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کر رہے ہیں مستقبل میں چینی پلانٹ بھی مقامی آبادی کی پیاس نہیں بجھا سکے گی۔
۔