وائٹ ہاؤس ایف بی آئی سے متعلق خفیہ میمو‘ ریلیز کرے گا

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ رپبلکن کا تیار کردہ میمو جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تعصب کا الزام لگایا گیا ہے جمعے کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دستاویز منظرعام پر لانے کے لیے کانگریس کو بھیجیں گے۔
ایف بی آئی نے میمو جاری کرنے کے حوالے سے ’شدید خدشات‘ کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس میمو میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جاسوسی کرنے کے احکامات حاصل کرنے کے لیے انٹیلیجنس کورٹ کو گمراہ کیا۔
چار صفحات پر مبنی اس دستاویز کو ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین ڈیون ننز کے نائبین نے مرتب کیا ہے جو صدر ٹرمپ کی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس میمو میں ایف بی آئی اور محمکہ انصاف پر گذشتہ سال مارچ میں کارکٹر پیج کے خلاف جاسوسی کرنے کے احکامات حاصل کرنے کے لیے جج کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
میمو میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے جج کو یہ نہیں بتایا تھا کہ وارنٹ حاصل کرنے کے لیے جو جواز پیش کیا گیا تھا وہ ٹرمپ روس سے متعلق ایک متنازع دستاویز پر مبنی تھا۔
بعض نامعلوم ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹزر کو بتایا ہے کہ رپبلکن میمو گمراہ کن ہے کیونکہ ایف بی آئی کی جانب سے وارنٹ حاصل کرنے کی درخواست میں جو مفصل دستاویز استعمال کیا گیا تھا اس کی امریکی انٹیلیجنس کی جانب سے آزادانہ منظوری دی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ کے سابق مشیر کارکٹر پیج کانگریس کمیٹی کے سامنے یہ گذشتہ نومبر میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ روسی سرکاری حکام سے جولائی 2016 میں ماسکو کے دورے کے دوران ملے تھے۔