سکیورٹی کلیرنس نہ ملنے پر این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں کام کرنے والے بعض ملکی و غیر ملکی فلاحی تنظیموں کی سکیورٹی کلیرنس نہ ملنے اور ناقص منصوبوں کی وجہ سے اُن پر پابندی لگائی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ 27 بین الاقوامی فلاحی تنظیموں پابندی عائد کی گئی ہیں۔
پارلیمانی رکن کی جانب سے 21 آئی این جی اوز کی اندراج کی درخواستیں مسترد کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں وزارتِ داخلہ نے 27 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی تصدیق کی ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے تحریری جواب میں کہا کہ مناسب جواب نہ دینے، ناقابل ذکر منصوبے اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر انھیں رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ 27 بین الاقوامی فلاحی تنظیموں پر پابندی کی وجوہات سامنے آئی ہیں۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق آئی این جی او پالیسی کے تحت وہ اس فیصلے کے خلاف خصوصی کمیٹی میں 90 روز تک اپیل دائر کر سکتی ہیں۔
اس سے قبل حکومت نے این جی اوز کی اپیلوں پر حتمی فیصلے آنے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔
ان امدادی تنظیموں میں سب سے زیادہ یعنی گیارہ کا تعلق امریکہ، پانچ برطانیہ، تین نیدرلینڈز، جبکہ باقی سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک، آئرلینڈ، تائیوان اور تھائی لینڈ سے ہے۔
ایوان میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق ان میں سے دو تنظیموں کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ ان میں ایک سینٹرل ایشیا ایجوکیشنل ٹرسٹ اور دوسری ماری سٹوپس سوسائٹی ہے۔
حکومت نے ایوان کے سامنے اپنے جواب میں آئی این جی اوز کے لیے تیار کی گئی نئی سرکاری پالیسی اور اس کے جائزے کے لیے قائم کمیٹی کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔
وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور آئی بی کے ایک ایک نمائندے بھی شامل ہیں۔