ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی کا صدر بنائے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی جماعت میں مشاورت کریں گے۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ جب چاہیں حکومت ختم کر سکتے ہیں اور انھیں اس کام میں دیر نہیں لگے گی۔

ان رہنماؤں نے یہ باتیں لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ انتظام حکومت مخالف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
لاہور کی مال روڈ پر منعقد ہونے والے اس جلسے سے ان دونوں رہنماؤں کے علاوہ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اور شیخ رشید نے بھی خطاب کیا جنھوں نے نہ صرف قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا بلکہ عمران خان سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔

اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی سے استعفے سے متعلق شیخ رشید کی باتوں سے متفق ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ ‘اسمبلی سے استعفوں کی تجویز پر پارٹی سے مشاورت کروں گا، ہوسکتا ہے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر شیخ رشید سے آ ملیں۔’

عمران خان نے اپنی تقریر میں پارلیمان کے لیے انتہائی سخت زبان استعمال کی۔

عمران خان نے کہا کہ ‘نواز شریف کو سپریم کورٹ نے مجرم قرار دیا لیکن پارلیمنٹ میں ہاتھ اٹھا کر مجرم کو پارٹی کا صدر بنانے کے حق میں ووٹ دیے، میں ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔’
ان کے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان کا احترام کرتی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔
بلاول نے عمران خان اور شیخ رشید کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ وہ دوسروں کے رویے کا کچھ نہیں کر سکتے لیکن وہ خود پارلیمان کی بےعزتی کی توثیق نہیں کریں گے۔
پاکستان عوامی تحریک کے زیر انتظام اس جلسے کے دو سیشنز تھے، پہلے سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔
جلسے سے خطاب میں سابق صدرِ پاکستان آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہ جب چاہیں حکومت کو ختم کر سکتے ہیں۔
لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے حکومت مخالف جلسے کے پہلے سیشن میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جب چاہوں ان کو نکال سکتا ہوں، مجھے کوئی دیر نہیں لگے گی۔‘

آصف زرداری نے کہا ‘پاکستان کو جاتی امراء کے شیخ مجیب الرحمان سے خطرہ ہے۔ آج یہ شخص مجیب رحمان بننے کی بات کر رہا ہے جس نے ملک توڑا تھا۔ نواز شریف ملک توڑنے کی بات کر رہے ہیں، لیکن جب تک ہم اس ملک میں ہیں ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔‘

پاکستان عوامی تحریک کی اپیل پر جمع ہونے والے اس جلسے میں حزبِ اختلاف کی اکثر بڑی جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔
آصف علی زرداری نے نواز شریف کی حکومت کو سلطنت شریفیہ کا نام دیتے ہوئے سوال کیا کہ ‘کیا 1947 میں یہ ملک سلطنت شریفیہ کے لیے بنا تھا یا سب عوام کے لیے؟’
جلسے سے خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا کہ ‘یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو کسی شخص کے نام پر ہے مسلم لیگ نواز، یہ سیاسی جماعت نہیں ان کی لمیٹڈ کمپنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘آج ملک میں انسانی حقوق کچلے جارہے ہیں، قومی دولت لوٹی جارہی ہے، ہم آئین کو نہیں سلطنت شریفیہ کو توڑنا چاہتے ہیں، جمہوریت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے اور نہ ہی ملک کے امن کو توڑنا چاہتے ہیں۔’