سزائے موت کے قیدی کی لا کالج میں داخلے کی درخواست پر حکام سے جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ نے سزائے موت کے قیدی کی جانب سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی درخواست پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ ہری پور جیل سے جواب طلب کیا ہے۔
جسٹس روح الامین اور جسٹس یونس تہیم کی عدالت میں بدھ کو سزائے موت کے قیدی سجاد احمد کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
خورشید خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے قیدی سجاد احمد کی خواہش کو سراہا اور کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے۔
عدالت نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا اور سنٹرل جیل ہری پور کے سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس بارے میں جواب طلب کیا ہے۔
خورشید خان کے مطابق سزائے موت کے قیدی سجاد احمد نے جیل میں رہ کر گریجوایشن یعنی بی اے، ایم اے پولیٹکل سائنس اور ایم اے انگلش کے امتحانات پاس کیے ہیں لیکن ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے لا کالج میں ستر فیصد تک حاضری ضروری ہے اور سزائے موت کے قیدی کو روزانہ کالج لے جانے اور لے آنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور یا کوئی دوسرا راستہ نکالنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جیل کے قوانین میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کی اجازت ہے لیکن آج تک کسی سے اس طرح پروفیشنل ڈگری کے لیے درخواست نہیں دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کسی قیدی کو اجازت دی جا چکی ہے اور تاحال اس بارے میں قانون خاموش ہے۔

قیدی ڈاکٹر سجاد 15 سال سے جیل میں قید ہیں اور دورانِ قید انھوں نے گریجوایشن یعنی بی اے کے امتحان کے علاوہ ایم اے پولیٹکل سائنس اور ایم اے انگلش بھی کیا ہے۔
جیل میں قیدیوں کی تعلیم حاصل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن سزائے موت کے کسی قیدی کا جیل کے اندر گریجوئیشن اور ڈبل ایم اے کرنے کا یا ایک منفرد واقعہ ہے۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے حکام کے مطابق جیل میں قید افراد میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق بڑھ رہا ہے اور ماضی کی نسبت اب زیادہ قیدی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رابطے کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سجاد کے وکیل خورشید خان نے بتایا کہ ڈاکٹر سجاد قانون کی ڈگری یعنی ایل ایل بی کرنا چاہتے ہیں اس لیے عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان کے لیے خیبر پختونخوا کے کسی لا کالج میں داخلے کا بندو بست کیا جائے اور انھیں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست کے مطابق پاکستان پریزن رولز کے رول نمبر 215 کے تحت قیدی قانون کی تعلیم یا ایل ایل بی کر سکتا ہے اس لیے ہائی کورٹ اُسے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے۔
خورشید خان نے بتایا کہ یہ سب عدالت پر منحصر ہے کہ وہ قیدی کے لیے قانون کی تعلیم کے حصول کے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ قانون ڈگری کے لیے کالج میں حاضری ضروری ہے اور امتحان میں بیٹھنے کے لیے کم سے کم 70 فیصد تک حاضریاں ضروری ہیں۔

سزائے موت کے قیدی سجاد احمد ایک نجی میڈیکل کالج میں تیسرے سال کے طالبعلم تھے کہ اس دوران قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوئے اور انھیں موت کی سزا سنائی گئی۔ ہائی کورٹ نے ان کی سزا برقرار رکھی اور اب مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ وہ پندرہ سال سے ہری پور جیل میں قید ہیں۔

سجاد اس وقت سنٹرل جیل ہری پور کی کال کوٹھڑی میں ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں انھوں نے جیل میں ہی تین ڈگریاں حاصل کر لی ہیں۔
سجاد کے تین بھائی ڈاکٹر ہیں اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے ہے۔
خورشید خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے درخواست میں کہا ہے کہ سجاد کے سزا کے بارے میں فیصلہ سپریم کورٹ میں ہو گا لیکن جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تب تک وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں قید افراد کے لیے مفت تعلیم کی پالیسی تشکیل دی ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ معاشرے میں عزت کی زندگی گزار سکیں۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بتایا کہ پاکستان کی مختلف جیلوں کے ہزار سے زیادہ قیدی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہے ہیں