سعودی عرب میں خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا، اس کی امید نہیں تھی‘

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو سٹیڈیم میں مردوں کا فٹبال میچ دیکھنے کا موقع ملا۔
جمعے کو سعودی عرب کی مقامی پروفیشنل لیگ میں دو مقامی ٹیموں الاهلی اور الاباطن کے درمیان کھیلے گئے اس میچ کو دیکھنے کے لیے خواتین کی بھی نمایاں تعداد سٹیڈیم مں موجود تھی۔ الاھلی کو پانچ صفر سے برتری حاصل ہوئی۔

جدہ میں ہونے والے میچ میں شامل خواتین شائقین میں ریاض سے آنے والی تین سہیلیاں صائمہ،صدف اور سمیرہ بھی شامل تھیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں صائمہ نے کہا کہ ‘ہمیں اس سب کی امید نہیں تھی، جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا اور جو عزت دی گئی۔ سب کچھ بہت اچھا تھا۔’
یہ تینوں دوستیں ریاض کی شہری ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کر رہی ہیں۔
صائمہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جانے کا پروگرام بنایا۔ ٹکٹ کے لیے قطار تو لمبی تھی لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور ہم نے خوب انجوائے کیا۔ ہم نے سوچا یہ اچھا تجربہ ہو گا اور ہم اتنے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔‘

انہی کی دوست سمیرہ احمد خواتین کے سٹیڈیم میں داخلے پر بہت خوش اور پرامید ہیں کہ مستقبل میں کھیل کے میدان میں بھی لڑکیوں کو مواقعے مل سکتے ہیں۔
سیمرہ ایم بی اے کر رہی ہیں انھیں سپورٹس میں خاص دلچسپی ہے وہ کہتی ہیں کہ ‘میں سکول کے دور میں بیڈمنٹن اور باسکٹ بال کھیلتی تھی لیکن آگے بڑھنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں تھا تو یہ شوق چھوڑنا پڑا۔’

سکول ٹیچر صدف نے کہا ’تھینکس ٹو گورنمنٹ، حکومت کا یہ سب کرنے پر شکریہ، ہم سب بہت خوش ہیں۔ ہم نے بہت انجوائے کیا۔ میں خواتین اور لڑکیوں کی اصل تعداد تو نہیں بتا سکتی لیکن ان کی تعداد کافی زیادہ تھی اور ان کا تعلق مختلف اقوام سے تھا۔‘

یہ تمام سہیلیاں واپسی کے سفر میں پرامید تھیں کہ حکومت خواتین کی تفریح اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔
سٹیڈیم میں داخلے کے لیے خواتین کے لیے الگ گیٹ تھا جبکہ سٹیڈیم میں فیملی انکلیو میں بیٹھ کر میچ دیکھا۔ میچ کے دوران انکلیو میں خواتین پر مشتمل عملے کو تعینات کیا گیا تھا۔
روایتی کالے حجاب میں ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا اور اس کے ساتھ میچ کے دروان بلند آواز میں دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔
امریکہ میں سعودی سفارتخانے کی ترجمان فاطمہ ایس بائتین نے کہا ہے کہ ’یہ عورتوں کے حقوق سے بڑھ کر ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ریاض اور پھر اتوار کو دمام میں کھیلے جانے والے میچ میں بھی خواتین کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت ہو گئی۔
خواتین کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں شامل ایونٹ کمپنی کی مالک سمیرہ عزیز کہتی ہیں کہ ستمبر میں حکومت نے اس پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔’ ابتدا میں مجھے اجازت ملی تھی لیکن کہا گیا کہ صرف مردوں کے لیے ہے میں نے کہا نہیں مجھے فیملیز کے لیے چاہیے، سنگلز بھی آسکتے ہیں لیکن فیملی ضروری ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وژن 2030 آچکا ہے صرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے ، کوشش جاری رکھیں اور پھر ستمبر 2017 میں مجھے اجازت ملی۔ اسی دوران دیگر آرگنائزرز کو بھی اجازت ملی جس کا پہلا میچ جمعے کو ہوا۔’

سمیرہ جس ایونٹ کے لیے کوشاں تھیں وہ 13 اپریل کو منعقدہ ہو گا جس کی خاص بات اس میں انڈیا اور سعودی عرب کی سلیبریٹیز شامل ہوں گی۔
خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔