امریکہ ایران سے جوہری معاہدہ ختم نہیں کرے گا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کےخلاف معطل کی جانے اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھیں گے اور سنہ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ کو خطرہ میں نہیں پڑے گا۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب اس معاہدے میں بہتری کے لیے کانگریس اور یورپی اتحادیوں کو ڈیڈلائن متوقع ہے یا امریکہ اس سے دستبردار ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے سخت ناقد ہیں، جس کی وجہ سے طویل المدت بحران کا خاتمہ ہوا تھا۔
یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔

تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان جمعے کو متوقع ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں امریکی صدر نے اس معاہدے کو ‘امریکہ کے لیے بدترین اور یکطرفہ’ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ آئندہ چند برسوں میں ایران جوہری ہتھیار تیزی سے بنائے گا۔
انھوں نے ایران پر ‘متعدد خلاف ورزیوں’ کا الزام عائد کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر معاہدے کی اس سخت غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔
امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔