سوشلستان: زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

سوشلستان والوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، عمران خان کی تیسری شادی پر توجہ رکھیں یا قصور میں ہونے والے ہولناک واقعے کی مذمت کریں۔ سوشلستان میں غم و غصے کا یہ عالم ہے کہ لاکھوں ٹویٹس اب تک مذمت اور قاتل کی پھانسی کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر اسلام آباد اور کراچی کے پریس کلب کے باہر مظاہرے میں چند درجن سے زیادہ لوگ اتنی ہی موم بتیوں کے ساتھ بمشکل شامل ہوئے۔

اسلام آباد پریس کلب کے باہر تو کوئٹہ کی علمدار روڈ پر 2013 میں ہونے والے دھماکے میں جان سے جانے والوں کی یاد میں شمع جلانے والوں میں ایک انسانی حقوق کے کارکن نے زینب کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا کہ ہم کیوں کوئٹہ کے ہلاک شدگان کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔ مگر ہم بات کریں گے کہ کیسے اس قتل کو سیاسی ’پوائنٹ سکورنگ‘ اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قصور میں زینب کے بہیمانہ قتل کے واقعے کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں کا رُخ قصور میں بچی کے گھر کی جانب ہوا۔
صحافی اور اینکر طلعت حسین نے لکھا ’مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ ایک ریپ اور قتل ہونے والے بچی کی تصاویر اور نام ذاتی پی آر کے ایک لامتناہی سلسلے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قصور کے ریپ اور قتل کے بہیمانہ واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا اتنا ہی ظالمانہ ہے۔ آپ دماغی طور پر بہت ہی غیر متوازن ہوں گے اگر ایسا کریں۔‘

سرفراز احمد رانا نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو ’رانگ نمبر‘ قرار دیا کہ ’ان تمام رانگ نمبروں سے ہوشیار رہیں کہ جو خود غرضی سے معصوم زینب کے خونِ ناحق پر اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے سیاست کھیل رہے ہیں۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے لکھا کہ ’زینب (اور دیگر بے گناہوں) کے لیے انصاف کے مطالبے پر سب متفق ہیں لیکن دھرنا بازوں سے ہوشیار رہیں جو اس معصوم بچی کے خون کو تختِ لاہور حاصل کرنے کی لڑائی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، ایسا کرنا معصوم زینب کو دوسری بار قتل کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

عمار مسعود نے بہت سے دوسروں کی طرح ایسےموقع پرستوں کو گدھ سے تشبیہ دی ’المیہ یہ ہے کہ ننھی زینب کے المناک اور دردناک واقعے پر مردار کھانے والے سب سیاسی گدھ آسمانوں سے اتر آئے ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہنگامے کروا کر اس معصوم کا مردہ بدن اپنی ناپاک اور خون آلود چونچوں سے نوچ رہے ہیں۔‘

اس موقع پر قصور جانے والے ان تمام سیاستدانوں پر یہ بھی اعتراض کیا گیا جیسا کہ طلعت حسین نے لکھا ’آپ پشاور کے اغوا اور ریپ کے واقعے پر تعزیت کرنے نہیں گئے، نوشہرہ کے متاثرین سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ کبھی ڈیرہ اسماعیل خان نہیں گئے اس بچی کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے جسے ننگا کر کے بازار میں گھمایا گیا مگر قصور آپ فوراً پہنچ گئے۔‘

دوسری جانب زینب کے والد کی جانب سے جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پولیس ابوبکر خدا بخش کی سربراہی کو مسترد کرنے کے بیان پر ان پر شدید تنقید کی گئی۔
محمد اکبر باجوہ نے لکھا ’زینب کے والد نے جے آئی ٹی کے سربراہ کے نام کو مسترد کر دیا ہے جو اُن کے مطابق احمدی ہیں مگر اس بات کا تفتیش سے کیا تعلق ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ وہ انصاف نہیں چاہتے بلکہ عوامی تحریک کے رُکن ہونے کی حیثیت سے سیاست کرنا چاہتے ہیں۔‘

یوسف بلوچ کا خیال تھا کہ ’زینب کے والد کے مطابق جے آئی ٹی کے سربراہ کو مسلمان ہونا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انسانیت کے بارے میں زیادہ سوچیں نہ کہ مذہب کے بارے میں۔‘
یونا حیدر نے اسے معاشرتی تعصب قرار دیا اور لکھا ’ہم جتنی بھی مصیبتیں جھیلیں ہمارے اندر کا تعصب اور نفرت نہیں مرتا، چاہے ہماری بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کرنے والا عقیدہ سے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، پر کمیشن کی سربراہی قادیانی سے قبول نہیں۔‘

ندیم فاروق پراچہ نے سری صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ “ذہن تسلیم نہیں کرتا جس طرح زینب کے والد نے اپنی بچی کو اتنے دردناک طریقے سے کھویا ہے مگر وہ اپنے دینی تعصب کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہماری قوم کدھر جا رہی ہے اور یہ لوگ کہاں تک پہنچیں گے۔ شاید ہم اس حد تک پہنچ چکے ہیں۔’