قصور: مظاہرے جاری، زینب کے والد کے اعتراض پر جے آئی ٹی سربراہ تبدیل

قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب امین کے والد کے اعتراض کے بعد حکومت پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔
کمسن زینب امین کے والد نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کے مسلک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے اپنی بیٹی کے قتل کی تحقیقات نہیں کروائیں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اے آئی جی ابوبکر خدابخش کی جگہ آر پی او ملتان محمد ادریس کو اس تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

ادھر قصور میں زینب کے ریپ اور قتل کے خلاف بدستور کشیدگی جاری ہے اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد اس وقت بھی سڑکوں پر موجود ہے۔
زینب کے والد نے کچھ دیر قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انھیں مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس طرح سے املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد مظاہروں سے اس کیس کی تحقیقات کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گذشتہ روز بھی قصور میں اس واقعہ کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کی وجہ سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان اپنا دورہ مختصر کرنے کے بعد واپس لاہور چلے گئے تھے۔
دوسری جانب آج پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں ارکان پارلیمان اس معاملے پر بھی اظہار خیال کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ حکمراں جماعت مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رانا مشہود نے قصور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور جلد ہی اس کیس سے متعلق اہم خبر سنائی جائے گی۔

خیال رہے کہ کمسن زینب امین کے قتل کی بہیمانہ واردات ہوئے چار دن گزر جانے کے بعد بھی اس جرم کی تحقیقات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے قاتل کی نشاندھی کرنے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے قصور میں سات سالہ زینب امین کے قتل کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا اور مقامی افراد سے اس بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔
پولیس نے اب تک اس مقدمے میں20 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے تاہم ان افراد سے تفتیش سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جو اس واقعہ میں ملزمان کا سراغ لگانے میں معاون ثابت ہو۔

پنجاب کے ضلع قصور میں کمسن بچی زینب کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بعد قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے ایک سال کے عرصے میں 11 واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن ان واقعات میں ملوث کسی ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

مقامی پولیس کے مطابق ضلع قصور میں زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں۔
اس علاقے میں اب تک 11 ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں کمسن بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد اُنھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان 11 واقعات میں صرف ایک بچی زندہ بچی ہے لیکن وہ بھی ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہے اور پولیس کے مطابق وہ بولنے کے قابل نہیں ہے۔

کمسن بچیوں کو اغوا کرنے کے واقعات تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں ہوئے جبکہ درندگی کا شکار ہونے والی ان بچیوں کی لاشیں تھانہ صدر کی حدود سے ملتی رہی ہیں۔ زینب کی لاش بھی تھانہ صدر کی حدود سے ہی ملی ہے۔

ان واقعات میں ملوث دو مشتبہ افراد کو پولیس مقابلے میں مار دیا گیا لیکن بعد میں ان کے ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد کمسن بچیوں کو اغوا کرکے اُنھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث نہیں تھے۔ ان مشتبہ افراد کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کے معاملے پر کوئی عدالتی تحقیقات نہیں ہوئیں ہیں۔

پنجاب پولیس کے سربراہ نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں آٹھ سالہ زینب کے قتل کے بارے میں رپورٹ جمع کروائی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زینب چار جنوری کو اپنے کزن عثمان کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر دینی تعیلم حاصل کرنے کے لیے گئی۔ عثمان تو خالہ کے گھر پہنچ گیا لیکن زینب نہیں پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق زینب کی خالہ نے سمجھا کہ وہ گھر واپس چلی گئی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جب بچی کی لاش ملی تو اس کے چہرے پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایڈشنل آئی جی انوسٹیگیشن ابو بکر خدا بخش کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور اس ضمن میں 80 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن تا حال اس کا سراغ نہیں ملا ہے۔