غیر قانونی آتشیں اسلحے کو ری سائیکل کر کے بنائے گئے ہیڈ فون

سویڈن کی یے وو لیبز نے ایسے وائرلیس ہیڈفونز متعارف کروائے ہیں جنھیں قبضے میں لیے جانے والے غیر قانونی اسلحے سے حاصل ہونے والی دھات سے بنایا گیا ہے۔
ان وائرلیس ہیڈفونز کا کیس اور بینڈ ہیومینیئم نامی دھات سے بنے ہیں۔
انھیں سویڈن کی ہیومینیئم میٹل انیشی ایٹیو نامی کمپنی نے بنایا ہے اور بہت سے سکینڈی نیویائی بنانے والوں نے استعمال کیا ہے۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس سے بڑی مارکیٹوں میں ہیڈفونز کی فروخت میں فائدہ ہوگا۔
یے وو کے چیف ایگزیکٹیو آنڈریز وورل نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ میں ان ہیڈفونز کی قیمت 499 ڈالر کچھ ’زیادہ‘ ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس میں سے 50 فیصد اس کمپنی کو واپس دیے جائیں گے جو یہ دھات بناتی اور تقسیم کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ دنیا میں سب سے قیمتی مواد ہے کیونکہ آپ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتے۔‘
آنڈریز وورل نے مزید بتایا کہ ’اس دھات سے ہیڈفونز بنائیں جائیں یہ سمجھنے میں دو سال کا عرصہ لگا۔ ہیڈفونز کی پہلے کھیپ اس غیر قانونی اسلحے سے حاصل کی گئی ہیومینیئم سے بنائی گئی جو لاطینی امریکہ میں حکام نے پکڑا تھا۔‘

یہ ہیڈفونز بلیوٹوتھ کے علاوہ این ایف ایم آئی (نیئر فیلڈ میگنیٹک انڈکشن) ٹیکنالوجی پر چلتے ہیں۔
این ایف ایم آئی ٹیکنالوجی اس سے پہلے پیس میکرز اور آلہ سماعت میں استعمال ہوتی رہی ہے، کیونکہ اس کی ’لو فریکوئنسی میگنیٹک فیلڈ‘ مائع سے چلتی ہے حتیٰ کہ جسم کے اندر بھی۔
آلات پر تبصرے کرنے والی ویب سائٹ پاکٹ لنٹ کے بانی سٹوارٹ مائلز کا کہنا ہے کہ ’لازمی طور پر یہ ہیڈفونز اچھے ہونے چاہیے کیونکہ آپ برینڈ کے پیسے دے رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ سی ای ایس ٹیکنالوجی ایکسپو میں متعارف کروائی جانے والی آڈیو پراڈکٹس کو بھی ریسائکل کیے جانے والے مواد سے بنایا گیا تھا۔