اوپرا ونفری کی تقریر صدارتی امیدواری کا پیش لفظ تو نہیں!

اتوار کو گولڈن گلوب کی تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سیتھ مائیرز نے معروف امریکی اداکارہ اوپرا ونفری کی ممکنہ صدارتی مہم کے بارے میں یوں ہی مذاق میں ایک خیال ظاہر کیا تھا۔
مگر جب ونفری انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں نمایاں خدمات کے لیے ‘سیسل بی ڈی میلے’ ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے سٹیج پر آئیں اور اس کے بعد انھوں نے جو تقریر کی وہ کوئی مذاق نہیں تھی۔
امریکی میڈیا میں یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ وہ اس خیال پر سرگرمی کے ساتھ غور کر رہی ہیں۔
وہ ایک عرصے تک امریکہ میں ٹاک شوز کی ملکہ رہیں اور انھوں نے فلم سازی کے ساتھ اداکاری بھی کی اور اب وہ ایک کیبل ٹی وی چینل چلاتی ہیں۔
ان کی تقریر بہت حد تک کسی صدارتی امیدوار کی طرح لگی جو کہ سدھی ہوئی اور مؤثر تھی۔ اور اس کی وجوہات بھی ہیں:
انھوں نے کہا:

حال میں امریکی سیاست میں معتبریت پر بہت زور رہا اور جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نفیس سیاستدانوں کے میدان میں قدم رکھا اور وائٹ ہاؤس پہنچے تو اس کے بعد اس پر مزید زور رہا۔
٭

٭

اوپرا ونفری نے اتوار کو اپنی تقریر کی ابتدا اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کی جب کسی سیاہ فام نے پہلی بار اہم اکیڈمی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
غریب گھرانے کا بیانیہ بہت سے سیاست دانوں کے لیے اہمیت کا حامل رہا ہے اور ونفری نے وسکانسن جیسی ریاست میں ‘لائنولیم کے فرش’ پر بیٹھنے کے ذکر سے بہت سے ناظرین کے دل کو چھو لیا۔
انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا:

واضح رہے کہ امریکی سیاست میں اقتدار کے مقابلے میں صداقت کوئی نئی تھیم نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ بہت مؤثر ہے۔
‘مطلق سچ’ کو سامنے لانے کے لیے جہاں انھوں نے آزاد پریس کی بات کی وہیں انھوں نے گھریلو ملازم، کھیتوں کے مزدور، فیکٹریوں میں کام کرنے والے، ڈاکٹر، سپاہی غرض کے تمام شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پیغام دیا جنھوں نے ‘ناانصافی اور مظالم کے دن گزارے ہیں۔’

ایسے میں اگر ونفری صدارتی انتخابات کے میدان میں اترتی ہیں تو ان کے حریف انھیں ہالی وڈ کی شخصیت کہہ کر انھیں حقیقی دنیا سے دور کی چیز ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
انھوں نے کہا:

اپنی تقریر کے درمیان انھوں نے ریسی ٹیلر کا ذکر چھیڑا جسے سنہ 1944 میں چھ سفید فام مردوں نے اغوا کیا اور ان کا ریپ کیا۔
خیال رہے سنہ 1980 کی دہائی میں رونالڈ ریگن نے اپنی بات رکھنے کے لیے اپنے خطابات کے دوران اپنے زندگی کے ذاتی ہیروز کی کہانی کہہ کر اپنی بات کو مؤثر بناتے تھے اور یہ سیاسی تقاریر میں خطابت کا ایک اہم طریقہ رہا ہے جس پر ونفری بھی پوری اترتی ہیں۔

انھوں نے کہا:

ہر ایک مہم کو حسب حال نعروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ونفری کا ‘ایک نیا دن افق پر آنے کو ہے’ ان میں سے ایک ہے۔ ایسا ہی ایک نعرہ ‘چمکدار صبح کے لیے’ تھا جو انھوں نےاس سے ایک جملہ پہلے کہا تھا۔
آپ ان کی تقریر دوبارہ سنیں اور اس بار آواز بند کر کے سنیں اور اس بات پر غور کریں کہ ناظرین میں بیٹھے مشاہیر ان کے ایک ایک لفظ کو کس طرح لے رہے تھے۔ ونفری نے ان سے جو ربط قائم کیا بہت ممکن ہے کہ گھر میں بیٹھے بہت سے ناظرین سے بھی انھوں نے وہ رشتہ قائم کر لیا ہو۔