ایپل بچوں کو فون کی لت سے بچائے: سرمایہ کاروں کا مطالبہ

دو بڑے سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جو بچوں کے لیے موبائل فون استعمال کرنے کے اوقات محدود کر سکے۔
یہ دو سرمایہ کار کمپنیاں ایپل کے دو ارب ڈالر سٹاک کی مالک ہیں۔ یانا پارٹنرز اور کیلیفورنیا ٹیچرز پینشن فنڈز نے ایپل سے کہا ہے کہ وہ فون میں ڈیجیٹل لاک شروع کرے۔
ان کے اس مطالبے کا ان تحقیق کاروں نے خیر مقدم کیا ہے جو ٹیکنالوجی کے کم عمر صارفین کے رویہ کے بارے میں ریسرچ کر رہے ہیں۔
دونوں سرمایہ کاروں نے ایپل سے کہا ے کہ سمارٹ فونز کے زیادہ استعمال سے بچوں کی دماغی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ایپل نے ان کی بات پر غور نہ کیا تو ان کے سٹاک کی قیمت اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں نو جوانوں کا خیال ہے کہ انہیں موبائل فون کی لت لگی ہوئی ہے۔ انہیں میسیجز کا جواب دینے کی عجلت محسوس ہوتی ہے۔
لندن سکول آف اکنامکس میں سوشل سائیکالوجی کی پروفیسر سونیا لیونگسٹن نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ خود سرمایہ کار ایسا کرنے کو کہہ رہے یں۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون بنانے والی کمپنی، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کا اس بارے میں متفق ہونا بہت ضروری ہے۔
پروفیسر لیونگسٹن نے کہا کہ ’متوازن زندگی ہر کسی کو اچھی لگے گی۔ ڈیوائسیز کا موجودہ ڈیزائن بچوں اور والدین کی درمیان اختلاف پیدا کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایپل اور تمام دیگر کمپنیوں کو سبھی نوٹیفیکیشز بند کر دینی چاہیں۔ صارفین کو فون کا استعمال کم کرنے کی یاد دہانی کروانے والے میسیج بھی بھیجنے کی ضرورت ہے۔
ایپل نے اس بارے میں ابھی تک کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔