امریکی صدور کس قانون کے تحت یروشلم میں امریکی سفارتخانہ موخر کرتے آئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی کنونشن سے انحراف کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔
انھوں نے کہا تھا کہ صدر منتخب ہونے کے پہلے ہی روز وہ اس بارے میں احکام جاری کریں گے۔
تاہم یکم جون کو صدر ٹرمپ نے اپنے پیش روؤں کی طرح ‘یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995’ پر دستخط کر کے چھ ماہ کے لیے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو موخر کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے یہ توجیح دیتے ہوئے ‘یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995’ پر دستخط کیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن معاہدے کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے جانب سے اس فیصلے کو موخر کرنے پر کہا کہ اس فیصلے کو موخر کرنے سے امن حاصل کرنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ امن میں مشکلات پیش آئیں گی۔
1995 سے اب تک امریکی صدر ہر چھ ماہ بعد اس فیصلے کو موخر کرتے چلے آئے ہیں۔ اس فیصلے کو پہلی بار سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے موخر کیا تھا۔
یکم جون کے بعد صدر ٹرمپ نے اس امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے حوالے سے دوبارہ فیصلہ یکم دسمبر کو کرنا تھا۔ تاہم جمعہ ہونے کے باعث اس حتمی فیصلے کی تاریخ پیر یعنی چار دسمبر کو رکھی گئی۔ لیکن اس تاریخ کو بھی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا کہ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ بدھ کو کیا جائے گا۔

‘یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995’ آٹھ نومبر 1995 کو منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت امریکی سفارتخانے کو اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم منتقل ضرور ہونا چاہیے۔
تاہم اس قانون میں ایک شق میں امریکی صدر کو حق دیا گیا کہ وہ سکیورٹی وجوہات پر اس فیصلے کو چھ ماہ کے لیے موخر کر سکتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے پر ہر چھ ماہ بعد نظرثانی کرنا ضروری ہے۔
اور اسی شق کو استعمال کرتے ہوئے بل کلنٹن سے لے کر چھ ماہ قبل تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کو موخر کرتے چلے آئے ہیں۔
امریکی پالیسی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی اور 90 کے اوائل میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے صدارتی بحث کا حصہ ہونا اور اس حوالے سے صدارتی مہم کے دوران وعدے کرنا عام تھا۔

سابق صدر بل کلنٹن نے فروری 1992 میں کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔
بل کلنٹن کے صدر بننے کے بعد جب یہودی لابی نے دباؤ ڈالا تو وائٹ ہاؤس کو اندازہ ہوا کہ یہ کہہ دینا آسان ہے لیکن ایسا کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔
بل کلنٹن کے مشرق وسطیٰ کے مشیر مارٹن انڈیک نے اسرائیلی اخبار ہیرٹز کو بتایا کہ ’صدر بننے کے ایک ہفتے کے اندر اس قسم کے فیصلے لینے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ اگر کرنا ہے تو جلد از جلد فیصلہ کرنا ضروری ہے۔

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ 1950 سے یروشلم اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت ہے اور اس شہر میں اسرائیلی صدر، پارلیمان اور سپریم کورٹ کے علاوہ کئی وزارتیں بھی قائم ہیں۔
1948-1967 تک یروشلم منقسم شہر تھا اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی شہریوں اور تمام ممالک کے یہودی شہریوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں تھی جو اردن کے کنٹرول میں تھا۔
1967 میں چھ روزہ جنگ کے بعد متحد یروشلم میں اسرائیل کے زیر انتظام تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا کہ یروشلم کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا چاہیے اور اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو 31 مئی 1999 سے قبل یروشلم منتقل کرنا چاہیے۔
صدارتی استثنیٰ کے حوالے سے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ صدر چھ ماہ کے لیے سفارتخانے کی منتقلی کو موخر کر سکتے ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں اور کانگریس کو بتاتے ہیں کہ اس فیصلے کو موخر کرنا امریکہ کے قومی سکیورٹی مفاد میں ہے۔