خواجہ آصف: امریکہ نے افغانستان میں انڈیا کا فوجی کردار نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے پاکستانی قیادت سے حالیہ ملاقاتوں میں افغانستان میں انڈیا کا فوجی کردار نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
امریکی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے پیر کو اسلام آباد میں امریکی حکام کے سامنے افغانستان میں بھارت کے فوجی کردار کا معاملہ اٹھایا تھا۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ نے اس معاملے پر پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی عسکری مداخلت نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کے افغانستان میں انڈیا کے کردار کے حوالے سے سخت تحفظات ہیں جس کا وہ امریکہ اور افغان قیادت سے کھل کر اظہار بھی کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل ستمبر میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس کے انڈیا دورے میں ان کی ہم منصب نے کہا تھا کہ انڈیا کا افغانستان میں اپنی فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ کہ انڈیا افغانستان کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھا رہا ہے تاکہ جنگ زدہ ملک کی مدد کی جائے۔ امریکی وزیر دفاع نے امریکی مسلح افواج کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کا یہ فیصلہ پاکستان کے تحفظات کے باعث ہے تاکہ پاکستان مغربی سرحد پر خود کو غیرمحفوظ نہ سمجھے۔

: دونوں ملکوں میں بات چیت کے دروازے کھلے رہنا اہم ہے۔

رفعت حسین: پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی یا نشاندہی کے بعد پاکستان کسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرے تو امریکہ کا شکوہ بجا ہے، لیکن ایسی کوئی معلومات نہ ہونے کی صورت میں یہ محض الزامات ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ روز پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقات کی تھی۔ دفتر خارجہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان ملاقاتوں سے پہلے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ‘مکمل کوآرڈینیشن’ تھا اور امریکہ سے ‘برابری کی سطح پر بات چیت کی گئی ہے۔’

ذرائع کے مطابق امریکی وزیر دفاع کے دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے افغانستان میں انڈیا کے کردار کا معاملہ سرفہرست رہا ہے، جبکہ امریکہ پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے خلاف کارروائی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے پاکستانی حکام سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ‘ہم پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔’

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جیمز میٹِس کو بتایا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ختم کر دیے گئے ہیں تاہم پاکستان اس امر کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے کہ کیا کوئی شرپسند کہیں افغان پناہ گزینوں کے لیے پاکستان کی ہمدردی سے ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہا۔

دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے امریکہ کو بتایا ہے کہ اب افغان مہاجرین کی واپسی یقینی بنائی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان محدود وسائل میں رہتے ہوئے کوشش کر رہا ہے کہ سرحد پر پناہ گزینوں کے روپ میں حقانی یا کسی اور شدت پسند تنظیم کی نقل و حرکت نہ ہو، جس کے لیے سرحد پر باڑ بھی لگائی جا رہی ہے، تاہم پناہ گزینوں کے روپ میں عسکریت پسندوں کی شناخت ایک مشکل عمل ہے، اس لیے افغان شہریوں کی واپسی ضروری ہے۔’

اس سے پہلے امریکی سفارتخانے کے مطابق امریکہ کے وزیرِ دفاع جیمز میٹِس نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کاوشوں کو مزید تیز کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کام کیا ہے۔