مہک: میں کشمیری ہوں اور کشمیری حالات پر اگر نہیں بولوں گی تو کیا فائدہ؟‘

پانچ برس قبل جب مہک نے انٹرنیٹ پر امریکی رپیر ایمینم کو سُنا تو اُس پر جنون طاری ہو گیا۔ وہ بکھرے خیالات کو موسیقی میں پرونے لگی اور کچھ ہی عرصے بعد مہک مختلف تقاریب پر ریپ موسیقی کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔

مہک نے اپنا سٹیج نام بھی ایمینم ہی رکھا۔ وہ کہتی ہیں: ‘پہلے تو سب کو عجیب لگا۔ والدین نے بھی کہا زندگی خراب ہو جائے گی، لیکن مجھے لوگوں سے بہت پیار ملا اور میں اب ریپر ہی بنوں گی۔’
پہلے پہل مہک کو والدین ہی نہیں پورے سماج کی مخالفت کا سامنا رہا، تاہم وہ کہتی ہیں: ‘اگر آپ اپنے خواب سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں تو آپ پیچھے نہیں ہٹتے۔ آج میرے والدین کو مجھ پر فخر ہے، اور دوست بھی خوش ہیں۔’

ریپ دراصل امریکی سیاہ فام فنکاروں کے مزاحمتی فن کا نمونہ ہے جو اب پوری دنیا میں مقبول ہو رہا ہے۔ موسیقی کی اس صنف کی خاص بات یہ ہے کہ اسے باغیانہ فن کہا جاتا ہے کیونکہ فنکار اکثر ارباب اختیار کے خلاف تیز دھن اور چھوٹی بحر والے گانوں کے ذریعہ ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔

مہک کہتی ہیں: ‘میں کشمیری ہوں اور کشمیری حالات پر اگر نہیں بولوں گی تو کیا فائدہ؟ میں نے پچھلے سال بندوق کے چھروں کے متاثرین پر گانا لکھا تھا۔’
یہ بھی پڑھیں
٭

٭

کشمیر میں بہت کم لڑکیاں موسیقی کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ لیکن گذشتہ چند برس کے دوران لڑکیوں میں مغربی موسیقی کی طرف میلان بڑھ گیا ہے۔
مہک کا کہنا ہے وہ اخبارات کا مطالعہ کرتی ہیں اور کوئی کہانی جب انھیں متاثر کرتی ہے تو وہ اس پر گانا کمپوز کر کے اسے ریپ میں ڈھال دیتی ہیں۔
کشمیر میں فن موسیقی کی روایت بہت قدیم ہے اور خواتین اس میں برابر کی شریک رہی ہیں۔
شاعرہ حبہ خاتون کے نغمے آج بھی کشمیر میں بےحد مقبول ہیں۔ نسیم اختر، راج بیگم، شمیمہ آزاد، کیلاش مہرہ، دیپالی واتل اور شازیہ بشیر جیسی گلوکاراوں نے کشمیری موسیقی کو دُنیا بھر میں متعارف کیا ہے۔
تاہم اب نئی نسل کے فن کار مغربی موسیقی سے متاثر ہوکر مقامی حالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ان میں بلاشبہ مہک نے نہایت بولڈ پہل کی ہے۔