امیتابھ نے اپنے بالوں کا انداز کس سے نقل کیا؟

بالی وڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن نے اپنے ساتھی اداکار ششی کپور کی موت پر انھیں اپنے ایک بلاگ میں یاد کیا ہے۔
ششی کپور سے اپنے پہلے تعارف کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ پہلی بار انھوں نے ‘ایک شخص کو مرسیڈیز سپورٹس کار کے پاس دنیا و ما فیہا سے لاپروا کھڑے دیکھا جس نے انتہائی خوبصورتی سے اپنی داڑھی مونچھیں تراش رکھی تھیں اور جو ان کے انتہائی خوبصورت چہرے کو زیب دے رہی تھی۔ وہ ششی کپور کی ایک تصویر تھی جو ایک میگزین کے پورے صفحے پر حاوی تھی۔’

اس تصویر کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ ‘جہاں ایسے لوگ موجود ہوں وہاں ان کی دال گلنے والی نہیں۔’
خیال رہے کہ اس کے بعد دونوں اداکاروں کی ایک کامیاب جوڑی نے بالی وڈ میں یکے بعد دیگرے کئی سپرہٹ فلمیں دیں۔ دونوں ایک درجن سے زیادہ فلموں میں ساتھ آئے جن میں ‘دیوار’، ‘نمک حلال’، ‘سلسلہ’، ‘شان’، ‘دو اور دو پانچ’، ‘سہاگ’، ‘کالا پتھر’، ‘ترشول’ اور ‘کبھی کبھی’ وغیرہ یادگار ہیں۔

امیتابھ بچن نے لکھا: ‘ششی کپور کو ویسا ہی پایا جیسا سنا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کراتے۔ انھیں اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ ان کا اپنا عاجزانہ انداز تھا جو دوسروں کو چھو جاتا تھا۔’

امیتابھ نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنا تعارف خود کرانے کی بہترین عادت ان سے سیکھی۔
انھوں نے لکھا: ‘وہ جب بات کرتے تو اس میں شرارت اور نرمی ہوتی اور لہجہ اتنا نرم اور دھیما تھا کہ سننا مشکل ہو۔’
کانوں کو چھپانے والے بال جو امیتابھ کا سٹائل سمجھے جاتے ہیں وہ در اصل ششی کپور کی نقل ہے۔
انھوں نے لکھا: ‘ان کے تھوڑے گھنگھریالے بال ماتھے اور کانوں پر گرتے تھے جس سے میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے بھی اپنے کانوں کو ڈھکنے کی کوشش کرنی چاہیے اور میں تاج ہوٹل کے ہیئر ڈریسر حکیم کے پاس گیا اور اپنا منصوبہ بتایا۔۔۔ اس پر عمل کیا جو آج تک میرے ساتھ ہے۔’

امیتابھ نے اپنے بلاگ کا آغاز رومی جعفری کے ایک شعر سے کیا ہے جو رومی جعفری نے ششی کپور کی موت پر امیتابھ کو بھیجے تھے۔
ہم زندگی کو اپنی کہاں تک سنبھالتے
اس قیمتی کتاب کا کاغذ خراب تھا
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ششی کپور انھیں ‘ببوا’ کہہ کر بلاتے تھے۔