پاکستان کے روایتی ساز آہستہ آہستہ دم توڑ رہے ہیں

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جدید سازوں کی آمد کے ساتھ روایتی سازوں کی بقاء خطرے میں پڑ گئی، تاہم یہاں دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی، فن کاروں کو درپیش معاشی مشکلات اور موسیقی کی جانب عمومی سماجی رویوں نے ان سازوں کی آخری سانسیں بھی کھینچ لی ہیں۔

پاکستان میں ان دنوں سب سے زیادہ خطرہ خیبر پختونخوا کے ساز سازندوں کو ہے۔ اعجاز سرہندی وہ آخری فنکار اور کاریگر ہیں جو سارندہ بنا اور بجا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی قدیم روایتی ساز ہیں جو مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے خطرے ہیں۔ ان میں بھورینڈو، سارنگی، چاردھا، مورلی بین، سروز،گزچیک، رانتی، الغوزہ، شہنائی، اور چترالی ستار وغیرہ شامل ہیں۔ روایتی سازوں کے زوال کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور فنکار اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

چرواہوں اور کسانوں کا مشہور ساز بھورینڈو خطے کا سب سے قدیم ساز ہے۔ چکنی مٹی سے بنے چار پانچ انچ کے اس ساز کا سلسلہ دریائے سندھ کی قدیم تہذیب ‘انڈس ویلی’ سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں دیہی علاقوں میں خوشی اور غمی کے موقعوں پر اس ساز کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔

سندھ کے ضلع تھرپارکر میں مقیم استاد فقیر ذوالفقار خطے کے ان گنے چنے فنکاروں میں سے ہیں جو بھورینڈو پہ دھنیں بجاتے ہیں۔
انھوں نے تاسف سے کہا کہ ’ادب و موسیقی کے بارے اب بہت کم لوگ علم رکھتے ہیں۔ چند ہی رہ گئے ہیں جو کہیں گے کہ ہمیں بھورینڈو اور نڑ سناؤ یا شاہ لطیف کی وائی سناؤ۔ پہلے لوگ سمجھ رکھتے تھے کہ کون سی راگنی ہے، کون سا سر ہے، کون سے شاعر کا کلام پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اب سننے والے بھی پورے ہو گئےاور سنانے والے بھی۔’

فقیرذوالقفار نے بتایا کہ بھورینڈو تو بہت سے لوگ بنا لیتے ہیں لیکن اس ساز کی باریکیاں اور نفاست کا علم تھرپارکر کے کمہار اللہ جڑیو کے پاس ہے۔ ضعیف العمراللہ جڑیو سے ملی تو دیکھا وہ اپنے گھرکے باہر ایک چھجے میں مٹی گوندھ رہے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ بھلا یہ فن بچوں میں کیوں نہ منتقل کیا تو بولے’ نہیں سیکھتے، انہیں کوئی شوق ہی نہیں ہے۔’
گلک جیسے ساز بھورینڈو کو زندہ رکھنے کےلیے اس میں معمولی مگربہت اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے اس میں تین سُر ہوا کرتے تھے لیکن اب سات ہیں۔
گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ کے مقامی ساز ‘چاردھا’ یا ‘پامیری رباب’ کو مذہبی عقیدے کا حصہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ مقامی لوگوں کے بقول اسی ساز کے ذریعے ہنزہ میں اسلام کی تبلیغ ہوئی۔
لیکن علاقے کے نوجوانوں کی اس علاقائی ساز کو سیکھنے میں دلچسپی میں کمی دیکھنے میں آئی۔
چاردھا نواز دولت مرزا بیگ کے بقول ‘پہلے تو جنوبی ایشیا کا میوزک ہم پہ غالب آ گیا، جیسے ثقافتی حملہ ہوا ہو۔ اس کی وجہ سے چاردھا آگے نہیں جا سکتا۔ فیشن ایبل ساز زیادہ مقبول ہوئے۔ یہاں سے ایک ایسی مذہبی لہر آئی جس میں کہا گیا کہ میوزک کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو اس کا اثر بھی ہم پہ ہوا۔’

چاردھا اپنی بناوٹ اور سروں کے لحاظ سے پشاوری یا کابلی رباب سے بالکل مختلف ہے اور اب چند ہی لوگ بچے ہیں جو اسے تیار کرنے کا گر جانتے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم فنکارگل باز انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ البتہ وہ بنانے کے ساتھ ساتھ چاردھا بجاتے بھی ہیں۔

ان کے بقول ‘اس میں استعمال ہونے والی توت کی لکڑی نایاب ہے جو ہنزہ میں ہی پائی جاتی ہے۔ لکڑی کی تراش کے لیے عام اوزار استعمال کیے جاتے ہیں اور ہاتھ سے اسے تراشنے اور مکمل تیار کرنے میں ڈیڑھ ماہ لگ جاتا ہے۔ انہی سب مشکلات کی وجہ سے یہ ساز کافی مہنگا بھی ہے۔’

شہنائی عموماً شادی بیاہ اور محرم کے جلوسوں سمیت سٹیج پر بھی کی جاتی ہے۔ یہ ساز شمالی انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد میں کافی مقبول ہے لیکن بدلتے وقت کے ساتھ خطے کے اس ایک اور روایتی ساز کے سُر بھی مدھم پڑتے جا رہے ہیں۔

شادی بیاہ اور جلوسوں میں تو شاید اب بھی کہیں کہیں شہنائی سننے کو مل جائے لیکن سٹیج پہ پرفارم کی جانے والی شہنائی اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کے تاریخی شہر کوٹری میں مقیم شہنائی نواز استاد عبداللہ خان ملک کے مایہ ناز فنکار ہیں جو پچھلے 50 سال سے شہنائی بجا رہے ہیں۔
شہنائی کی اقسام پہ بات نکلی تو انہوں نے بتایا کہ ‘شادی بیاہ، جلوس اور سٹیج کی شہنائی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ دولہے کو لے کرجا رہے ہیں تو اس میں شور اور ہنگامہ تو چاہیے ہی نا اور وہ لوگوں کو پسند بھی ہے’۔

عبداللہ خان شہنائی سمیت دیگر روایتی سازوں کے زوال کا ذمہ دار’کی بورڈ’ کو ٹھہراتے ہیں۔
‘شہنائی، فلوٹ، طبلہ، ستار، سارنگی، ان کو بجانے کے لیے الگ الگ لوگ چاہئیں۔ لیکن اب یہ سب کام ایک ہی آدمی کرسکتا ہے۔ بس بٹن دبانا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن اصل اصل ہے اور نقل نقل ہی ہوتا ہے۔’
یہ ساز دیگر سازوں کے مقابلے میں بلوچستان میں قدرے زیادہ مقبول ہے لیکن کلاسیکل بینجو بجانے والے اب اکاّ دکاّ لوگ ہی رہ گئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جاپانی شہری موریتاگورو نے ایک کھلونا تائیشو گورے بنایا جو سیاحوں کی بدولت 1912 میں اس خطے میں پہنچا۔
لیاری کے رہائشی بینجو نواز استاد ممتاز علی سبزل کا دعوی ہے کہ ان کے دادا استاد گل محمد نے اس کھلونے میں کافی تبدیلیاں کر کے اسے ایک ساز کی شکل دی اور اس کا نام ‘بلوچی بینجو’ رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ ‘بینجو پہ لگنے والی ٹپس اس وقت دستیاب نہیں تھیں۔ اس زمانے میں برطانوی راج تھا تو میرے دادا نے اس پہ برطانوی سکے لگائے تھے۔
یہ ساز دو سازوں سارنگی اور دلربا کا مجموعہ ہے اور مشرقی اور مغربی ایشیا میں اسے بلبل ترنگ کے نام سے بھی جانا ہے۔
امریکی شہری ڈاکٹر ایرن ملوانی پچھلے ڈیڑھ سال سے کراچی میں بینجو پہ بلوچی موسیقی سیکھ رہے ہیں۔ انہیں بلوچی میوزک کا ردھم کافی مشکل لگتا ہے اور یہی ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔
‘بینجو پہ بجایا جانے والا فوک اور کلاسیکل میوزک مر رہا ہے اور میرا خیال ہے یہ ایک شرم کی بات ہے کہ یہاں بہت کم لوگ ہی اسے بجاتے ہیں۔ میں نے بینجو سیکھنا شروع کیا کیونکہ ہمیں ایک اور طبلہ اور ستار بجانے والے گورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس وہ بہت ہیں اور ہمیں بہت مل جائیں گے۔ میرے خیال میں بینجو کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔’

دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ جدید ساز پرانوں کی جگہ لے لیتے ہیں لیکن کسی نہ کسی شکل میں پرانے سازوں کے تحفظ کے لیے کام کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کام سرکاری سطح پہ تو نہیں البتہ بعض فنکار اور فلمسازاس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ جواد شریف، اریب اظہر، ذی جاہ فاضلی، ہارون ریاض، عصمت بشیر نے ایک دستاویزی فلم ‘ انڈس بلُو’ بنا کے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

اریب اظہر کہتے ہیں کہ ‘آپ توقع نہیں کرسکتے کہ ہمارا لوک فنکار جو پڑھا لکھا نہیں ہے اور دیہاتوں میں رہتا ہے وہ ایک پڑھے لکھے گٹار بجانے والے شہری فنکار سے مقابلہ کرسکتا ہے۔‘
اریب اظہر نے ایک ثقافت کے بچاؤ کے لیے ایک کلچر پالیسی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘فی الوقت تو ہمارے ہاں کلچر منسٹری بھی نہیں ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ ان کا کوئی وظیفہ مقرر کرے۔ صرف ایک ادارہ لوک ورثہ موجود ہے لیکن ہر شہر میں اس طرح کے اداروں کے قیام کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر والے بھی صرف ایک پڑھی لکھی دولت والی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ہمارے فوک میوزک کے فروغ کے لیے اسے بھی سپانسر کریں۔’