سعودی عرب سے جا رہا ہوں، قید کی اطلاعات غلط ہیں: سعد حریری

سابق لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ان کی قید کی اطلاعات غلط تھیں۔ انھوں نے یہ اعلان ٹوئٹر پر کیا ہے۔
سعد حریری گذشتہ دو ہفتوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ لبنان کے صدر میشال عون نے حال ہی میں پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لبنان کے صدر میشال عون نے کہا کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
صدر نے وزیراعظم کے استعفٰی کے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ملک سے باہر ہیں اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ اپنے استعفے کے بارے میں بات کرنے کے لیے انھیں لبنان واپس آنا پڑے گا اور استفیٰ دینے کی وجوہات بیان کرنا پڑیں گی جن کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملکی معاملات کو روکا نہیں جا سکتا اور وہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔
سعد حریری نے نومبر کی چار تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ لبنان واپس نہیں جا سکے ہیں۔
اتوار کی رات کو سعد حریری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے واپس جانے پر وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور انھوں نے لبنان اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوڑا تھا۔
خیال رہے کہ ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
توقع ہے کہ سعد حریری فرانس میں صدر ایمانیوئل مارکون سے ملاقات کریں گے۔