بش سینیئر کی 16 سالہ لڑکی سے دست درازی‘

ایک خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ 16 برس کی تھیں تو سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش بے اس وقت ان کی پیٹھ کو ٹٹولنے کی کوشش کی تھی جب وہ اور ان کی والدہ بش کے ساتھ تصویر کھنچوا رہی تھیں۔
روسلین وہ چھٹی خاتون ہیں جنھوں نے سابق صدر بش پر نامناسب انداز میں خود کو چھونے کا الزام لگایا ہے۔
انھوں نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ان کے والد ٹیکساس میں ملازمت کرتے تھے جہاں سی آئی اے کے افسران کی سنہ 2003 میں ہونے والی ایک ملاقات میں وہ صدر بش سے ملیں۔
’میرا پہلا ردعمل بہت خوفناک تھا۔ میں بہت پریشان تھی، میں ایک بچی تھی۔‘
بش سینیئر کے ترجمان پہلے ہی اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ انھوں نے بہت سی خواتین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا ہے۔
پیر کو جم میک گرا جو کہ امریکہ کے 41ویں صدر بش کے ترجمان ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کے دل میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ وہ کسی کو جان بوجھ کر کسی کو نقصان پہنچائیں یا تکلیف دیں، اور وہ دوبارہ معافی مانگتے ہیں اگر انھوں نے کسی کو تصویر بنواتے ہوئے ناراض کیا ہو۔‘

وہ کہتی ہیں ’جیسے ہی تصویر بنائی جانے لگی انھوں نے میری کمر سے اپنا ہاتھ گرا کر میرے کولہوں پر دباؤ ڈالا۔ اس کا ثبوت تصویر میں میرے کھلے ہوئے منہ سے مل سکتا ہے۔‘
اس واقعے کے وقت مسٹر بش کی عمر 79 برس تھی۔
روسلین کہتی ہیں کہ ’میں نے کچھ بھی نہیں کہا، ایک نوعمر لڑکی امریکہ کے سابق صدر کو کیا کہہ سکتی تھی؟
اکتوبر کے آخر میں بہت سی دیگر خواتین نے کچھ ایسی ہی کہانیاں سنائیں۔
مسٹر میک گرا کا کہنا ہے کہ ’بش نے تقریب میں خواتین کو سہلایا جس میں ان کا مقصد اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق صدر وہیل چیئر پر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے تصویر بنواتے ہوئے ان کے بازو ساتھ موجود لوگوں کی کمر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔
لیکن اس تصویر میں مسٹر بش ریگن کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں اذیت ہوئی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ ضعیف شخص جو جواز بیان کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔
روسلین نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نہ سو سکتی ہیں نہ بیٹھ سکتی ہیں کیونکہ یہ جواز درست نہیں ہے۔